شیروں کی حفاظت کی جائے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکومت شیروں کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کرئے گی۔ حکومت نے شیروں کی حفاظت کے ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ اس رپورٹ کے بعد کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے جنگلوں میں شیروں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے جس سے ان کی نسل کو خطرہ لا حق ہو گیا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں شیروں کی تعداد تین ہزار سات سو کے قریب رہ گئی ہے جب کہ جنگلی حیات سے متعلق تنظیموں کا خیال ہے کہ حکومتی اعداد شمار ٹھیک نہیں ہیں اور شیروں کی تعداد بہت کم ہے۔ بھارت کے تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیور آف انویسٹی گیشن کے سربراہ یو ایس مشرہ نے کہا ہے کہ شیروں کا جنگلوں سے غائب ہونے کے واقعات کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ شیروں کے لیے بنائے گئی حفاظت گاہوں کے محافظ صیح طور مسلح نہیں ہیں۔ سی بی آئی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ شیروں کی پناہ گاہوں کے محافظوں کو جدید اسلحہ اور رابطے کرنے کے مناسب سامان مہیا کیا جائے تاکہ وہ شیروں کا شکار کرنے والوں کا مقابلہ کرسکیں جو جدید اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||