BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 12:32 GMT 17:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سمٹتی جگہیں اور کم ہوتے شیر
tiger
گزشتہ دہائیوں میں شیروں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے
ایک حالیہ مطالعہ سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شیروں کو انکی ضروت سے کافی کم جگہوں میں رہنے کے لیئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان علاقوں میں بھی لگاتار کمی آتی جا رہی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں شیروں کے رہنے کاچالیس فیصد علاقہ کم ہو گیا ہے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ ان کے لیئے محض سات فیصد رقبے ہی بچے ہیں۔

اس سلسلے میں مطالعہ کرنے والے گروپ نے ویسی چھیترجگہوں کی پہچان کی ہے جو چیتہ کی نسل کے اس جانور کے رہنے کے لیئے قدرے محفوظ ہیں۔

اس گروپ نے متعلقہ حکومتوں کے سربراہوں سے ان علاقوں کی حفاظت کرنے کی گزارش کی ہے جہاں شیروں کے رہائشی علاقوں کی حفاظت سے متعلق کانفرنس ہونے والی ہے۔

امریکہ کے’ وا ئلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی ‘ کے جان رابنسن نے کہا ’ یہ رپورٹ باگوں کی حفاظت کے لیئے کافی اہم ہیں۔‘

ایک صدی پہلے تک دنیا میں شیروں کی کل تعداد ایک لاکھ تھی جو اب کم ہو کر محض پانچ ہزار رہ گئی ہے۔ شیروں کی تعداد میں اس کمی کی سب سے بڑی وجہ انکے رہائشی علاقوں کاا نسانی استعمال میں لایا جانا ہے۔ جبکہ کچھ حد تک شیروں کا شکار بھی اسکی ایک وجہ ہے۔

سائنسدانوں نے انکی رہائش کے لیئے محفوظ ترین مقام کے متعلق جاننے کے لیئے مطالعہ کیا ہے۔ انھوں نے ایسے 76 مقامات کا پتہ لگایا ہے جو باگوں کے کی رہائش کے لیئے مناسب ہیں۔ ایسے علاقوں میں زیادہ تر ہندوستان اور روس میں ہیں جبکہ کچھ علاقے جنوب مشرقی ایشیا میں بھی ہیں۔

باگ
روس اور ہندوستان میں باگوں کی رہائش کے سازگار ماحول ہیں

امریکہ کے جنگلی جانوروں سے متعلق تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سائنسدان ایرک ڈائنرشٹائن کا کہنا ہے ’شیروں کی رہائش کےعلاقوں کی حفاظت کی ذمہ داری صرف متعلقہ ملکوں پر ہی نہیں ہونی چاھیئے۔ ‘

انھوں نے کہا کہ ایشائی ممالک کی اقتصادی ترقی شیروں کی قیمت پر نہیں ہونی چاھیئے۔اس تنظیم نے ان حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ باگوں کی حفاظت سےمتعلق ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے جس میں اس سے متعلق مسائل پر ہی بحث ہو۔

فی الحال شیروں کی’ پنتھیرا‘ ذات کی دنیا میں سب سے زیادہ آبادی ہے جبکہ ’جاوان‘’بالی‘ اور ’کاسپین‘نسلوں کی تعداد اتنی کم رہ گئی ہے کہ ان کی نسل کو ہی خطرہ لاحق ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک شیرنی کی رہائش کے لیئے 25 سے 1600 مربعہ کلومیٹر جگہ کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ شیر کے لیے اس سے بھی زیادہ جگہ کی ضرورت پڑتی ہے۔

اسی بارے میں
سندر بن کے شیروں کی گنتی شروع
26 February, 2004 | نیٹ سائنس
شیروں کی سب سے بڑی پناہ گاہ
29 March, 2004 | نیٹ سائنس
نایاب ٹائیگر ختم ہو رہے ہیں
12 April, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد