BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 November, 2007, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق فوجی شیروں کے محافظ

شیر
ہندوستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں شیروں کی تعداد دو تہائی رہ گئی ہے
ہندوستان کی حکومت نےشیروں کی تعداد میں کمی پر قابو پانے کے لیے فوج کےسابق افسران کو شیروں کے لیے بنائے گئے تحفظاتی پارکوں کی حفاظت کے لیے بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک حالیہ حکومتی جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان کے جنگلوں ميں شیروں کی تعداد میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔

ملک کے وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بعض ریاستوں میں گزشتہ پانچ برسوں میں شیروں کی تعداد دو تہائی رہ گئی ہے۔

ریٹائرڈ فوجیوں کی ملازمت کے بارے میں ماحولیات کے تحفظ کے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ممبر سنجوئے بینرجی کا کہنا ہے کہ: ’شیروں کے پارکوں کی حفاظت کے لیے کافی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن ایسے پارکوں کے آس پاس کے جنگلات کے تحفظ پر کوئی زور نہيں دیتا جبکہ بیشتر جانور ایسے جنگلات میں ہی گھومتے رہتے ہیں اور شکاریوں کا نشانہ بنتے ہيں‘۔

سال دو ہزار دو میں کی گئی مردم شماری کے مطابق ملک میں شیروں کی تعداد 3642 تھی جبکہ مئی ميں کی گئی تحقیق میں پتہ چلا کہ جنگلات میں صرف 1500 شیر ہی بچے ہیں۔ اس تحقیق کی مکمل رپورٹ دسمبر میں آئے گی۔

جنگلات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن شیروں کا شکار اور شہروں کی آبادی کے لیے جنگلات کی کٹائی کو شیروں کی تعداد میں کمی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے شیروں کے تحفظ کے لیے ’ٹائگر پروٹیکشن فورس‘ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا لیکن جنگلات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن حکومت سے مزید اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت شیروں کے غیر قانونی شکار اور ان کی کھال کی سمگلنگ کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

شیروں کا شکار ان کے جسم کے مختلف حصوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان کی کھال کپڑوں کے لیےسمگل کی جاتی ہے جبکہ ہڈیوں سے بعض دوائيں تیار کی جاتی ہیں۔

مختلف رپورٹس کے مطابق ہندوستان میں سو برس پہلے چالیس ہزار شیر موجود تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد