شیو سینا کے بیالیس سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعتوں میں سب سے طاقتور مانی جانے والی شیوسینا پارٹی اپنے قیام کے بیالیسویں برس اپنی بقاء کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ شیو سینا سربراہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے باہمی اختلافات کی وجہ سے اپنی علیحدہ پارٹی بنا لی ہے اور شیوسینا کو مراٹھی اور ہندؤں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک بار پھر ہندتوا کا کارڈ کھیلنا پڑا ہے۔ کئی اتار چڑھاؤ سےگزرنے والی پارٹی کو بیالیس برس قبل انیس جون سن چھیاسٹھ کو فری پریس جنرل میں کارٹونسٹ کے طور پر کام کرنے والے بال ٹھاکرے نے قائم کیا تھا انہوں نے پارٹی کا نام مراٹھا لیڈر چھترپتی شیواجی مہاراج کی فوج ( سینا ) کے نام پر رکھا۔ ممبئی ملک کا سب سے بڑا کاسموپلیٹین شہر ہے۔ابتدا میں یہاں کوکن اور مراٹھی باشندوں کی بہتات تھی لیکن انیس سو ساٹھ کی دہائی میں حکومت نے تاجروں کو ترغیب دینے کے لیے نرم پالیسی اپنائی جس نے مغربی بنگال، گجرات، اور جنوبی ہند کے تاجروں کو اپنی جانب راغب کیا۔رفتہ رفتہ تجارت کی وجہ سے ملازمتوں میں بھی یہ لوگ حاوی ہونے لگے۔یہی بات ٹھاکرے اور ان کے ہم خیال لوگوں کو پسند نہیں آئی وہ سمجھنے لگے کہ اس طرح ’ باہر‘ سے آئے لوگ یہاں حاوی ہوتے رہے تو ان کے لیے یہ ایک خطرہ بن سکتے ہیں۔ٹھاکرے نے مراٹھی لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور ان کے حق کی لڑائی کے لیے پارٹی کا قیام کیا۔ ٹھاکرے مراٹھیوں کو یہاں کی زمین کا بیٹا ( بھومی پتر) مانتے ہیں اور اس لیے انہوں نے پہلے جنوبی ہند کے لوگوں کے ہوٹلوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ان کا مقصد تھا کہ باہر سے آئے لوگ یہاں سے جائیں۔ان کی اس پالیسی کو بے روزگار مراٹھیوں نے سراہا لیکن کچھ عرصہ بعد جب یہ جادو کام نہیں کر سکا تو پارٹی نےانیس سو ستر میں ہندتوا کی پالیسی کو اپنایا۔مذہب کو بنیاد بنا کر ٹھاکرے نے مسلمانوں اور پڑوسی ملک پاکستان کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ پارٹی ہمیشہ تشدد کے راستے پر چلی۔ذرا ذرا سی بات پر شہر میں دکانیں بند کرانا اور توڑ پھوڑ کرنا ان کےلیے معمولی بات تھی۔ لوگوں میں ان کا خوف بیٹھ گیا۔انیس بانوے ترانوے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کرنے والی جسٹس این بی سری کرشنا کمیشن نے جو رپورٹ پیش کی اس میں انہوں نے ان فسادات میں شیوسینا کے اہم رول کی تصدیق کی۔ پارٹی وقتاً فوقتاً ہندتوا کا کارڈ کھیلتی رہی۔حتکہ پارٹی نے پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں کو ممبئی میں آ کر کرکٹ کھیلنے پر پابندی کا مطالبہ کیا اور میدان کی پچ کھود ڈالی۔ سیاسی سطح پر پارٹی نے کچھ عرصہ بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ الحاق کیا اور انہوں نے انیس سو پچانوے سے ننانوے تک ریاست کے اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس دوران پارٹی نے ممبئی اور پونے میں پچپن فلائی اوور بنائے۔لیکن ان کی غریبوں کے لیے مفت مکان فراہم کرنے کی متنازعہ سکیم فلاپ ہو گئی۔ اس کے علاوہ پارٹی پر یہ الزام بھی عائد رہا کہ وہ غریب مراٹھیوں کو روزگار فراہم کرانے میں ناکام رہی ہے اور نہ ہی ان کے حق کی لڑائی کے لیے کچھ مثبت اقدامات کیے۔ شیو سینا ممبئی میونسپل کارپوریشن پرگزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار میں ہے۔ شیو سینا نے ممبئی میونسپل کارپوریشن جو دنیا کی امیر ترین کارپوریشنوں میں سے ایک ہے، کے الیکشن کو ہمیشہ ریاستی الیکشن سے زیادہ اہمیت دی ہے۔پارٹی میں بال ٹھاکرے کو اقتدار کا ریموٹ کنٹرول کہا جاتا ہے کیونکہ ہر فیصلہ کرنے کا حق انہی کو ہوتا ہے۔ پارٹی نے مہاراشٹر کے باہر نکل کر قسمت آزمائی کی اور اس طرح انیس سو ننانوے میں پارٹی نے لوک سبھا کے لیے اپنے پندرہ ممبر پارلیمنٹ میں بھیجے۔ان کی پارٹی کے لیڈر منوہر جوشی دو برسوں کے لیے لوک سبھا سپیکر کے عہدے پر فائز رہے۔ یہ دور شیوسینا کا سنہرا دور مانا جا سکتا ہے لیکن پارٹی کے اندرونی اختلافات نے پارٹی کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پارٹی سے چھگن بھجبل نکلے۔انہوں نے پارٹی کی جڑیں کمزور کر دیں۔پارٹی کی جانب سے مہاراشٹر کے وزیر اعلی کے عہدے پر فائز رہنے والے نارائن را نے نے جب پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی تو ان کے ساتھ پارٹی کے کئی اہم لیڈران چلے گئے۔ٹھاکرے کے بھتیجے راج نے اپنی علیحدہ پارٹی نو نرمان سینا بنا لی اور یہ ٹھاکرے کے لیے زبردست دھکا تھا۔ راج خود کو اپنے چچا کا سیاسی وارث دیکھنا چاہتے تھے لیکن جب ٹھاکرے نے اپنے بیٹے ادھو کو اقتدار سونپ دیا تو ناراض راج چلے گئے اور یہ پارٹی بکھرتی چلی گئی۔ پارٹی کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایک بار پھر ٹھاکرے ہندتوا کا کارڈ کھیل رہے ہیں گزشتہ روز ہی انہوں نے مسلمانوں کی شدت پسندی سے مقابلہ کرنے کے لیے ہندو خود کش دستہ بنانے پر زور دیا۔ایک بار پھر انہوں نے مراٹھیوں کو ورغلانے کے لیے شہر سے شمالی ہند یعنی اتر پردیش اور بہار کے باشندوں کو بھگانے کی مہم شروع کی۔ بڑی کمپنیوں میں مراٹھیوں کو ملازمت دلانے کے لیے کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ آئندہ برس ریاست میں الیکشن ہونے والے ہیں۔ شیوسینا کو اب خود اس بات کا ڈر ہے کہ ان کے مراٹھی اور ہندو ووٹ تقسیم ہو جائیں گے کیونکہ ان کے مقابلے اب راج کی نونرمان سینا ہے۔یہ الیکشن شیوسینا کے لیے لِٹمس ٹیسٹ ثابت ہو گا اگر ان الیکشن میں شیوسینا اپنی برتری قائم رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کی بقاء کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا لیکن اگر اس الیکشن میں ناکامی اس کے ہاتھ آتی ہے تو شاید پارٹی بکھر جائے گی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ جب تک بال ٹھاکرے زندہ ہیں ان کا جادو پرانے مراٹھیوں کو پارٹی سے باندھ کر رکھ رہا ہے لیکن ان کے بعد اُدھو میں وہ کرشمہ نہیں ہے اور تب پارٹی کو اپنا وجود بچانا مشکل ہو گا۔ |
اسی بارے میں تھانےدھماکہ: ہندو شدت پسندگرفتار17 June, 2008 | انڈیا جے پور: زندگی معمول پر آ رہی ہے15 May, 2008 | انڈیا جےپور:مشتبہ شخص کا خاکہ جاری15 May, 2008 | انڈیا جے پور:دھماکوں کے بعد کرفیو نافذ14 May, 2008 | انڈیا سنگینوں کے سائے میں میئر الیکشن 16 June, 2007 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے:43 ہلاک، سو زخمی09 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||