BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 June, 2008, 07:37 GMT 12:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر، ہڑتال سےعام زندگي متاثر
فائل فوٹو
ہندو عقیدت مند وشنو دیوی مندر کی زیارت کے لیے جموں جاتے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام جموں کشمیرمیں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف تین روز سے جاری ہڑتال سے عام زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

سب سے زیادہ اثر ذرائع نقل وحمل پر پڑا ہے کیونکہ گزشتہ تین روز سے مسافروں کو لانے اور لے جانے والی تقریباً پچاس ہزار گاڑیاں نہیں چل رہی ہیں۔

حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تو بڑھا دی ہیں لیکن کرائے میں اضافے کی اجازت نہیں دی گئی ہے جس کے خلاف ٹرانسپورٹرز نے پیرکے روز سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

موسم گرما میں جموں کشمیر عام طور پر سیاحوں کی آمجگاہ ہوتی ہے۔ اس موسم میں لاکھوں ہندوں زائرین بھی وشنو دیوی مندر کی زیارت کے لیے جموں آتے ہیں لیکن ہڑتال کے سبب مسافروں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

انتظامیہ نے حالات سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرکاری بسیں روڈ فراہم کی ہیں تاکہ مسافروں اور خاص طور پر زائرین کو ان کی منزلوں تک پہنچایا جاسکے۔ جموں کے ڈیویژنل کمشنر سدھانشو پانڈے نے بتایا کہ ’ہمای ترجیح یہ ہے کہ پہلے ان مسافروں کو جو جموں ٹرین سے پہنچ رہے ہیں اور وہ زائرین جو کٹرا میں پھنسے ہیں انہیں مدد پہنچائی جائے۔‘

مسٹر پانڈے نے بتایا کہ سرکاری بسیں چلانے سے کئی علاقوں کے پھنسے مسافر اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں لیکن بہت سے علاقوں میں اب بھی حالات پریشان کن ہیں۔

اشوک کوٹھاری وشنو دیوی مندر کی زیارت کے لیے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال کے سبب انہیں سفر کرنے میں کافی مشکلیں پیش آئیں۔’جب کوئی چارہ نہیں رہا تو پھر سرکاری بس سے کٹرا گئے لیکن اس بس میں گنجائش سے دوگنے مسافر سوار تھے۔‘

ان حالات میں وہ پرائیویٹ گاڑی مالکان جن کا ٹریول ایجنسیز سے تعلق ہے خوب پیسہ کما رہے ہیں۔ ایک مسافر رمیش وورا نے، جو دلی سے مندر کی زیارت کے لیے جموں گئے تھے، بتایا کہ ’ کٹرا تک جانے اور واپس آنے کے لیے ہمیں ٹیکسی کے عام کرائے سے تین گناہ زياہ کرایہ دینا پڑا ہے۔‘

وہ سیاح جو اس گرمی کے موسم میں وادی کشمیر کا مزا لینا چاہتے ہیں انہیں بھی اسی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔ ہڑتال سے مقامی لوگوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنہ ہے اور ٹرانسپورٹ کی کمی کے سبب دفاتر میں بھی کم لوگ پہنچ پا رہے ہیں۔

اس دوران ٹرانسپورٹ یونینز کے نمائندے حکومت سے بات چیت کے لیے سری نگر گئے ہوئے ہیں تاکہ اس مشکل کو جلد از جلد حل کیا جاسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد