کشمیر: مہنگائی کے خلاف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹروں اور تجارتی انجمنوں نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں ميں اضافے، مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل کے خلاف پیر کو مظاہرے کیے ہيں۔ ہڑتال اور مظاہروں کے سبب سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری متاثر ہوئی ہيں جبکہ کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔ گزشتہ اٹھارہ سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹروں اور تجارتی انجمنوں نے مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل جیسے معاملات پر حکومت کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ ادھر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ریاست میں حالات کے معمول پر آنے کا عندیہ ہے۔ ریاست کے وزیرخزانہ طارق حمید قرہ نے بی بی سی کو بتایا ’اگر پہلی بار معاشی مسائل پر لوگ احتجاج پر اُتر آئے ہیں اور اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے لگے ہیں تو یہ حالات کے معمول پر آنے کی علامت ہے لیکن ہم نے ماہرین کی آراء طلب کی ہیں اور ہم عنقریب ایک پالیسی مرتب کر رہے ہیں تاکہ عام لوگوں کو مہنگائی کا کم سے کم بوجھ اُٹھانا پڑے‘۔ واضح رہے ضروری اشیاء خاص کر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ نے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی تھی کہ وہ ٹیکسوں میں ممکنہ چُھوٹ کا اعلان کریں تاکہ عام لوگوں کو مہنگائی سے قدرے راحت پہنچے۔ اس اپیل پر عمل کرتے ہوئے ملک کی بائیس صوبوں نے عام تجارتی ٹیکسوں میں چھوٹ دی تھی جس سے پیٹرول اور پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں قدرے کمی واقع ہوئی۔ سرکاری ملازمین کی انجمن ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ خورشید عالم نے بی بی سی کو بتایا ’جموں و کشمیر میں کانگریس کی حکومت ہونے کے باوجود وزیراعظم کے اس فارمولے کو نظرانداز کیا گیا‘۔ بقول خورشید عالم ’یہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں ٹیکس کے دو ماڈل ایک ساتھ نافذ ہیں۔ ایک طرف جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ویٹ نظام کے تحت ساڑھے چودہ فی صد محصولات جمع کیے جاتے ہیں‘۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے مسائل حل کرنے میں حکومت کی ناکامی سے علیٰحدگی پسندوں کو اپنا دائرہ اثر وسیع کرنے کا موقع مل رہا ہے ۔اس ضمن میں علیٰحدگی پسند لیڈروں کا الزام ہے کہ نئی دلّی جموں کشمیر کو ’معاشی بلیک میل‘ کر رہی ہے۔ معاشی امور سے متعلق احتجاجی مظاہروں کے وسیع پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاریخ کی طالبہ مُحسِنہ گلزار کہتی ہیں کہ ’یہ کوئی نارمل ریاست نہیں ہے۔ یہاں تو ہند نواز سیاستدانوں کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ عام لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے الیکشن لڑتے ہیں۔ وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ آپ علیٰحدگی پسندوں کی باتوں میں آ کر جذباتی نعرے نہ لگاؤ، کیونکہ ہم آپ کے مسائل حل کریں گے۔ اس حساب سے تو یہ حکومتی اداروں کی اخلاقی شکست ہے‘۔ تاہم اس سلسلے میں علیٰحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کہتے ہیں’نئی دلّی کشمیر میں تعمیر و ترقی کے عمل کو بھی کاؤنٹر انسرجنسی (انسداد تشدد) کا حصہ سمجھتی ہے۔ چونکہ پچھلے چند سال میں فوج اور پولیس کے خلاف عوامی مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے، لہٰذا اب دلّی والے معاشی بلیک میل کر رہے ہيں‘۔ شبیر احمد مزید کہتے ہيں’ یہ کوئی بات نہیں کہ بائیس ریاستوں میں ٹیکس راحت دی جائے اور جموں کشمیر کو مستثنٰی رکھا جائے۔ یہ تو بلیک میل ہے۔ اس کا پوشیدہ مطلب یہ ہے کہ جب تک ہم لوگ آزادی کی بات کرتے رہیں گے تب تک معاشی حقوق سے محروم رکھے جائیں گے‘۔ |
اسی بارے میں کشمیر: قیدیوں کے حق میں احتجاج04 April, 2008 | انڈیا تیل کی مہنگائی سے پریشانی05 June, 2008 | انڈیا انڈیا: پیٹرولیم کی قیمت میں اضافہ04 June, 2008 | انڈیا افراطِ زر کی شرح میں ریکارڈ اضافہ11 April, 2008 | انڈیا مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ07 April, 2008 | انڈیا تین برس میں سب سے زیادہ مہنگائی04 April, 2008 | انڈیا بھارت میں مہنگائی کی زبردست مار 28 March, 2008 | انڈیا پٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی15 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||