سڑک حادثات ، ریڈکراس کی مدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پُرتشدد واقعات کے مقابلے سڑک حادثوں میں زیادہ اموات کے انکشاف کے بعد حکام نے ریڈکراس کے اشتراک سے ان حادثوں پر قابو پانے کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست کے گورنر ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل ایس کے سنہا نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ’یہاں تو تشدد میں کم اور سڑک حادثوں میں زیادہ لوگ مارے جاتے ہیں، لہٰذا ہم ان حادثوں کی روک تھام کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کی خاطر مقامی ریڈکراس کی مدد لینگے‘۔ پولیس کے مطابق جموں کشمیر میں پچھلے پانچ روز کے دوران مختلف سڑک حادثوں میں ساٹھ افراد ہلاک جبکہ سو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ کشمیر رینچ کے ایس ایس پی ٹریفک شبیر احمد کے مطابق صرف کشمیر صوبے میں گزشتہ چار ماہ کے دوران تینتالیس افراد مختلف سڑک حادثوں میں ہلاک ہوگئے۔ ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ جموں کے مسلم اکثریتی ڈوڈہ، رام بن، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ خطوں میں پچھلے دو سال کے دوران سب سے زیادہ سڑک حادثے پیش آئے جن میں سینکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے انسپکٹر جنرل محمد امین شاہ نے بی بی سی کوبتایا کہ پچھلے پچیس سال کے دوران ٹریفک میں پینسٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے، جبکہ سڑکوں کی تعمیر یا کشادگی کے حوالے سے کوئی گروتھ نہیں ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق سال دو ہزار سات میں دو ہزار ایک سو اسّی سڑک حادثے رونما ہوئے، جن میں دو سو پچہتر افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سٹیٹ ریڈکراس سوسائٹی کے اعزازی جنرل سیکریٹری غلام جیلانی نحوی کہتے ہیں کہ وہ سڑک حادثوں کو روکنے کے لیے حکومت کی تجویز سے متفق ہیں اور وہ اس سلسلے میں ایک اعلٰی سطحی بیداری مہم کا بلیو پرنٹ بھی تیار کررہے ہیں۔ مسٹر نحوی کا کہنا ہے کہ ’سڑک حادثوں کے لیے صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں ہوتی بلکہ اس میں لوگوں کا بھی رول ہوتا ہے، ہم اپنی مہم کے دوران عام لوگوں اور ڈرائیورں کو ٹارگٹ کرینگے‘۔ ریجنل ٹرانسپورٹ آفس میں دستیاب اعداد وشمار کے مطابق پچھلے سات سال کے دوران صرف صوبہ کشمیر میں مختلف سڑک حادثوں کی وجہ سے دو ہزار ایک سو بیس افراد کی موت ہوگئی جبکہ تییس ہزار تین سو تہتر زخمی ہوئے، جن میں متعدد ہمیشہ کے لیے اپاہج ہوگئے۔ یاد رہے گزشتہ پانچ روز کے دوران ہونے والے سنگین حادثوں میں جموں ڈوڈہ شاہراہ پر ہوئی وارداتیں قابل ذکر ہیں۔ ان میں چھتیس شہری اور آٹھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اس دوران وادی میں بھی مختلف حادثوں میں آّٹھ افراد کی جانیں تلف ہوئیں۔ | اسی بارے میں ڈوڈہ: بس حادثے میں 44 ہلاک30 September, 2005 | انڈیا بس چناب میں گرنے سے30 افراد ہلاک08 May, 2008 | انڈیا کشمیر بس حادثہ، پچاس افراد ہلاک20 January, 2006 | انڈیا اترانچل: حادثہ، 48 باراتی ہلاک14 June, 2006 | انڈیا راجستھان: سڑک حادثہ، 24 ہلاک24 April, 2008 | انڈیا گجرات بس حادثہ، درجنوں بچے ہلاک16 April, 2008 | انڈیا بس کھائی میں گرنے سے38 ہلاک21 January, 2008 | انڈیا ٹرین حادثے میں چودہ افراد ہلاک 14 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||