ڈوڈہ: بس حادثے میں 44 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے بس حادثےمیں مرنے والے افراد کی تعداد چوالیس ہو گئی ہے۔ اس حادثے میں چالیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور شدید زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ حادثہ ڈوڈہ ضلع میں اس وقت پیش آیا تھا جب سری نگر سے سنگلادن جانے والی ایک بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری تھی۔ سینیئر پولیس اہلکار ایس پی وید نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ’مسافروں سے بھری بس ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر ہوگئی اور جموں کے شمال میں تتا پانی کے قصبے کے نزدیک کھائی میں جا گری‘۔ اطلاعات کے مطابق چالیس مسافروں کی گنجائش والی اس بس میں نوّے مسافر سوار تھے جن میں سے کچھ بس کے چھت پر بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ حادثے کے بعد پولیس اہلکاروں، فوجیوں اور مقامی دیہاتیوں نے ساری رات امدادی کارروائیاں جاری رکھیں اور بائیس مزید لاشوں کو ملبے سے نکال لیا جس سے مرنے والوں کی تعداد چوالیس تک پہنچ گئی ہے۔ بھارت میں سڑک کے حادثے عام ہیں اور ہر برس ہزاروں افراد ان حادثوں میں مارے جاتے ہیں۔ ان حادثوں کی ذمہ داری زیادہ تر تیزرفتاری، پرانی گاڑیوں اور سڑکوں کی خراب حالت پر ڈالی جاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||