’شہرت کی قیمت چکانی پڑی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندستانی نژاد امریکی فیشن ڈیزائنر آنند جون کی بہن سنجنا کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو اپنی شہرت، کامیابی اور ترقی کی قیمت چکانی پڑھ رہی ہے۔ سجنانے بدھ کوممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں امریکی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ ان کے بھائی کو نسلی امتیازی سلوک کا شکار بنایا جارہا ہے۔ جون گزشتہ چھ ماہ سے زیادہ عرصہ سے لاس انجلس کی جیل میں قید ہیں ان پر عصمت دری اور جنسی استحصال جیسے تیس سے زیادہ الزامات عائد ہیں۔ سنجنا نے ممبئی کے ایک سینئر وکیل مجید میمن کے دفتر میں ہنگامی طور پر بلائی گئی کانفرنس میں کہا’جب وہ اور ان کی والدہ آنند جون سے ملنے گئے تو دیکھا کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے۔‘ سنجنا نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی کو نسلی امتیاز کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ سب وہاں کی فیشن انڈسٹری کی مضبوط لابی کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ جب سے امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے ان کے بھائی کے برانڈ کی قیمت کو دس ملین ڈالر بتایا تھا، بھائی کو ایک پروجیکٹ کے لیے دس سے پندرہ ملین ڈالر ملنے والے تھے۔ سنجنا کے مطابق ایک ہی لڑکی کئی جگہ سے ان کے بھائی کے خلاف مختلف الزامات عائد کر رہی ہے۔ پولیس نے وہاں ڈی این اے رپورٹ بھی کرائی لیکن وہ منفی نکلی۔ سنجنا کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ ان کے بھائی کے خلاف سبھی شکایات پانچ سال پرانی ہیں اور یہ سب جعلی کیس ہیں۔ سجنا کا کہنا تھا کہ وہ انڈیا میں لوگوں کو اس بات سے واقف کرانا چاہتی ہیں کہ کس طرح ایک ہندوستانی نژاد فنکار کو نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مجید میمن جنہوں نے موسیقار ندیم کا کیس برطانیہ کی عدالت سے جیتا تھا، صحافیوں سے کہا کہ اس بات کے امکانات ہو سکتے ہیں کہ جون نسلی امتیاز کا شکار ہوا ہو۔میمن کے مطابق جون کا کیس کسی بھی با شعور جج کی عدالت میں زیادہ دیر ٹھہر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کیس میں کوئی دم ہی نہیں ہے۔ میمن نے بتایا کہ وہ پہلے وزیراعظم اور خارجی امور کے دفتر سے اس سلسلہ میں رابطہ قائم کریں گے پھر امریکہ اٹارنی جنرل سے ملاقات کریں گے کیونکہ وہ اب تک جون کی تائید کرتے آئے ہیں۔ میمن کے مطابق وہ انڈیا اور امریکہ کے حقوق انسانی کمیشن کے سامنے بھی اس کیس کو پیش کریں گے۔ جون ایک نامور فیشن ڈیزائنر ہیں۔انیس سو اٹھانوے میں پارسن سکول آف ڈیزائین سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد جون نے فیشن کی دنیا میں قدم رکھا اور پھر ان کے ڈیزائن دنیا میں مقبول ہوتے گئے۔جون کو مارچ دو ہزار سات میں بیورلی ہلز پولیس نے عصمت دری کے کیس میں گرفتار کیا تھا اس کے بعد ان پر اسی نوعیت کے مزید پندرہ الزامات عائد کیے گئے۔جون پر امریکہ کی بھی نو خواتین نے اسی طرح کے الزامات عائد کیے۔اس وقت وہ لاس اینجلس کی جیل میں قید ہیں۔ |
اسی بارے میں فیشن ڈیزائنر پر ریپ کا الزام17 March, 2007 | انڈیا انڈیا: ’فیشن ٹی وی‘ پر پابندی30 March, 2007 | انڈیا ممبئی: لیکمے فیشن ویک کا آغاز28 March, 2007 | انڈیا ممبئی میں لیکمے فیشن ویک 31 October, 2006 | انڈیا انڈیا فیشن ویک اختتام کو پہنچا 09 April, 2006 | انڈیا فیشن تنازعہ، دوبارہ تحقیقات کا حکم05 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||