سرحدوں کے پار غم کی داستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برسوں ہندوستانی جیل میں رہنے کے بعد چوبیس سالہ محمد شریف ساگر اب ہندوستان سے پاکستان لوٹ رہا ہے۔ محمد شریف کراچی کے نزدیک ملیر کا رہنے والا ہے۔ بقول شریف اسے جعلی ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے کے الزام میں سعودی عرب سے ہندوستان کے شہر ممبئی بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے ایک جاننے والے کی سازش کے نتیجے میں ہوا۔ شریف کا کہنا ہے کہ ممبئی میں اسے کسی نے بتایا کہ پاکستان جانے کے لیے وہ لکھنؤ سے ٹرین پکڑ سکتا ہے۔ اس نے لکھنؤ کا سفر کیا اور یہاں آکر اسے مایوسی ہوئی۔ آخر کار اس نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا۔ لکھنؤ میں دس برس تک جیل کی سزا کاٹنے کے بعد ایک مقامی عدالت نے اپنے فیصلے میں شریف کو بے گناہ قرار دیا۔
شریف کو پاکستان بھیجنے کے لیے عدالت نے انہیں لکھنؤ میں واقع کاکوری پولیس کے حوالے کردیا لیکن اس کارروائی میں بھی تین برس گزر گئے اور اب جب وہ پاکستان اپنے خاندان سے مل رہا ہے اس کے والد کی موت ہوچکی ہے۔ کراچی میں شریف کے خاندان والوں نے بتایا کہ اسی ہفتے کے دوران کسی روز اپنے گھر پہنچ جائیں گے۔ محمد شریف ساگر کی رہائی کو پاکستانی انسانی حقوق کے کیمشن نے خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان انسانی حقوق کے کیمشن کے کنوئنر راؤ عابد حامد نے بی بی سی کو بتایا کہ فون پر کہنا تھا کہ ’میں شریف کی رہائی کی خبر سن کر بہت خوش ہوں، یہ انسانیت کے لیے بہت اچھا ہے، شریف نے بغیر گناہ کے بہت اذیتیں برداشت کی ہیں‘۔ عابد حامد نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو اور بھی بہت سے ایسے لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو اپنی سزا پوری ہونے کے بعد بھی ان جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں سپریم کورٹ نے حال ہی میں اسے افراد کی رہائی اور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ | اسی بارے میں سرحدی زمینوں کی فروخت کی تفتیش 30 November, 2007 | انڈیا ’ترقی سرحد پر بھی نظرآنی چاہیے‘10 October, 2007 | انڈیا واہگہ بارڈر کا نام اٹاری بارڈر ہوگیا09 September, 2007 | انڈیا ہند پاک مشترکہ جشن آزادی06 August, 2007 | انڈیا درۂ ناتھولا:’رشتے بحال ہو رہے ہیں‘05 July, 2006 | انڈیا کرکٹ شائقین کی بھگدڑ، ایک زخمی12 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||