درۂ ناتھولا:’رشتے بحال ہو رہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین اور ہندوستان کے درمیان صدیوں پرانا زمینی راستہ ’درّہ ناتھولہ‘ ایک بار پھر کھولا جا رہا ہے۔ تقریباً چودہ ہزار فٹ اونچے اس راستے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ ملےگا۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم دونوں ملکوں کے سرحدی تنازعے کے حل میں بھی معاون ہوسکتا ہے۔ سنہ انیس سو باسٹھ کی بھارت چین جنگ کے بعد درہ ناتھولہ کو بند کر دیا گیا تھا اور اب چوالیس برس بعد اس کے دوبار کھلنے سے سرحد پر بسے دونوں جانب کے لوگوں میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں چینی امور کی ماہر ڈاکٹرالکا اچاریہ کا کہنا ہے کہ اس زمینی راستے کے کھلنے سے مقامی لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ’بہت دنوں سے اس راستے کے کھولنے کا مطالبہ ہورہا تھا۔ اس سے سرحد پر تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی، مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچے گا اور یہ قدم دونوں ممالک کے رشتوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا‘۔
درّہ ناتھولہ بھارت کی ریاست سکم سے شروع ہوکر چودہ ہزارفٹ سے زیادہ اونچی ہمالیائی پہاڑیوں کے درمیان سےگزرتا ہوا تبّت سے جا ملتا ہے۔ سکم حکومت کے ایک جائزے کے مطابق اس راستے سے سالانہ تین ارب روپے کی تجارت ممکن ہے اور اس میں ہر برس دگنے سے بھی زیادہ اضافے کی گنجائش ہے۔ ہندوستان میں ایوان صنعت و تجارت کے جنرل سیکریٹری نجیب عارف کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی سے تجارت کافی بڑھ چکی ہے اور یہ اس کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔’ہم اسے بھارت اور چین سے زیادہ سکّم اور تبّت کے درمیان کی تجارت سمجھتے ہیں‘۔ اس زمینی راستے سے بھارت کی طرف سے زیادہ ترخام مال جانے کی امید ہے جبکہ چین سے تیار شدہ اشیاء کے علاوہ ریشم کی تجارت کے بھی امکان ہیں۔ پروفیسر اچاریہ کے مطابق ابتداء میں تجارت کے لیئے’چوبیس چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور بعد میں اس میں اضافہ کیا جائےگا‘۔
کولکتہ میں یونیورسٹی پروفیسر جینت انوج بنگوپادھیائے کا کہنا ہے کہ درہ ناتھولہ کھلنے کی اہمیت تجارتی روابط سے زیادہ سفارتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سکّم سے تجارتی روابط شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چین نے سکم کو باضابطہ طور پر بھارت کا حصہ تسلیم کر لیا ہے جبکہ ماضی میں وہ اس سے انکار کرتا رہا ہے اب اس سے دونوں کے درمیان سرحدی تنازعات کو سلجھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے‘۔ سکم اور تبت کے درمیان زیر تعمیر سڑک کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رابنسن کے مطابق سرحد خاردار تاروں سے گھری ہے اور لڑائی کے بعد سے دونوں ملکوں کے ڈاکیوں کے علاوہ کسی نے بھی اس راستے سے سرحد پار نہیں کی ہے اور اس علاقے میں سخت فوجی پہرا ہے۔ چین کے ڈاکیہ ای لنگ نے جیمز کو بتایا کہ وہ گزشتہ سترہ برسوں سےگھوڑے پر سوار ہو کر سرحد پار کرتے آئےہیں۔ تاہم کئی بار برف جمنے پر پیدل آنا پڑتا ہے اور ہر بار سخت سکیورٹی کے درمیان خط و کتابت کاتبادلہ ہوتا ہے۔ یہی حال بھارت کے ڈاکیئے کا ہے۔ دونوں ہفتے میں صرف ایک بار سرحد پار کرتے ہیں لیکن اب اس زمینی راستے کے کھلنے سے ان ڈاکیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں کی زندگی آسان ہونے کی امید ہے۔ | اسی بارے میں ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا ہند و پاک تجارت: 76 فیصد کا اضافہ13 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||