واہگہ بارڈر کا نام اٹاری بارڈر ہوگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر واقع تاریخی ’واہگہ بارڈر‘ کا جو حصہ ہندوستان میں آتا ہے اس کا نام بدل کر اٹاری بارڈر کردیا گیا ہے۔ ’واہگہ سرحد‘ وہ مقام ہے جہاں ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک نے مل کر دوستی اور بحالِی اعتماد کے اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ شاید یہ جگہ بٹوارے کی سب سے جانی پہچانی علامت اور دونوں ملکوں کی پیدائش کا مقام ہے، جو برطانیہ سے انتقال اقتدار کے بعد آزادی کے ساٹھ سال میں ہونے والی بہت سی تقریبات کی گواہ رہی ہے۔ یہ بدلہ ہوا نام بہت جلد گرینڈ ٹرنک روڈ یا جرنیلی کے انڈین حصے میں میل کے پتھروں سمیت دیگر نشانات پر نظر آنے لگے گا۔ واہگہ سرحد کا نام بدلنے کا نوٹفیکیشن ہندوستان کی مرکزي حکومت نے پنجاب کی ریاستی حکومت کی سفارش پر جاری کیاہے۔پنجاب حکومت کی دلیل تھی کہ واہگہ گاؤں دراصل پاکستان میں واقع ہے۔ یہ دلچسپ ہے کہ آزادی کے ساٹھ سال بعد ہندوستانی حکومت کو یہ خیال آیا کہ ’واہگہ‘ نام کا گاؤں پاکستان میں ہے اور ہندوستان کی طرف دوسرے حصے کو اٹاری کہا جاتا ہے۔ بہرحال نام کی تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ اٹاری گاؤں مہاراجا رنجیت سنگھ کی سکھ افواج کے نامی سپہ سالار شام سنگھ اٹاری والا کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے۔ نام تبدیل کرنے کا یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں پیش آيا ہے جب دونوں ممالک تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے رکاوٹوں کو کم کرنے کے بارے میں اقدامات اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ | اسی بارے میں امن کی سرحدیں 14 June, 2005 | انڈیا ہند پاک مشترکہ جشن آزادی06 August, 2007 | انڈیا جب ’یو فون‘ بنا ’سپائس‘08 February, 2007 | انڈیا کرکٹ شائقین کی بھگدڑ، ایک زخمی12 February, 2006 | انڈیا ویزے کے بغیر پاکستانی اجمیر میں02 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||