آسام:پرتشدد مظاہرہ، درجنوں زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمال مشرقی ریاست آسام کے شہرگوہاٹی میں قبائلیوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران تشدد سے ڈیڑھ سو افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے سترہ کی حالت نازک ہے۔ پولیس نے تشدد کے واقعات کے بعد جنوبی گوہاٹی میں بشستہ سے دس پور تک کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ گوہاٹی کے سینئر افسر سی کے بھویان نے بی بی سی کو بتایا کہ’ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہیں اور ڈیڑھ سو افراد ہسپتال میں داخل کروائے گئے ہیں تاہم کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے‘۔انہوں نے نجی ٹی وی چینلوں پر بیس افراد کی ہلاکت کی خبر کو’مبالغہ ‘ قرار دیا۔ آسام حکومت کے ترجمان دنیش دیکا کے مطابق تشدد کے یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب قبائلیوں کی سٹوڈنٹ یونین نےگوہاٹی کے بلٹولک علاقے میں ایک ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس ریلی کے دوران احتجاجیوں نےگاڑیوں کو آگ لگانا اور مقامی افراد کی پٹائی شروع کر دی جس کے جواب میں مقامی افراد نے بھی کارروائی کی۔ یاد رہے کہ آسام کی یہ یونین مرکزی ہندوستان کے ان قبائلیوں کی نماندگی کرتی ہے جنہیں برطانوی دورِ حکومت میں چائے کے باغات میں کام کرنے کے لیے آسام لایا گیا تھا۔ یونین ان قبائلیوں کو ہندوستان کے آئین کے تحت شیڈول قبیلے کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ بہار اور جھارکھنڈ ميں اس برادری کو شیڈول قبیلے کا درجہ حاصل ہے جس سے انہیں ملازمت اور تعلیم کے میدانوں میں بہتر مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں منی پور: فسادات، گیارہ افراد ہلاک10 June, 2007 | انڈیا مذاکرات، لیکن حالات کشیدہ 31 May, 2007 | انڈیا راجستھان ہڑتال، مزید تین ہلاک31 May, 2007 | انڈیا اڑیسہ: لاشوں سے ہائی وے بلاک 03 January, 2006 | انڈیا انڈامان، نکوبار کے قبائلی محفوظ ہیں31 December, 2004 | انڈیا آسام: مذاکرات کی پیشکش مسترد10 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||