BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسام:پرتشدد مظاہرہ، درجنوں زخمی

فائل فوٹو
قبائلیوں کی سٹوڈنٹ یونین نے بلٹولک میں ایک ریلی کا اہتمام کیا تھا
شمال مشرقی ریاست آسام کے شہرگوہاٹی میں قبائلیوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران تشدد سے ڈیڑھ سو افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے سترہ کی حالت نازک ہے۔

پولیس نے تشدد کے واقعات کے بعد جنوبی گوہاٹی میں بشستہ سے دس پور تک کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

گوہاٹی کے سینئر افسر سی کے بھویان نے بی بی سی کو بتایا کہ’ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہیں اور ڈیڑھ سو افراد ہسپتال میں داخل کروائے گئے ہیں تاہم کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے‘۔انہوں نے نجی ٹی وی چینلوں پر بیس افراد کی ہلاکت کی خبر کو’مبالغہ ‘ قرار دیا۔

آسام حکومت کے ترجمان دنیش دیکا کے مطابق تشدد کے یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب قبائلیوں کی سٹوڈنٹ یونین نےگوہاٹی کے بلٹولک علاقے میں ایک ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس ریلی کے دوران احتجاجیوں نےگاڑیوں کو آگ لگانا اور مقامی افراد کی پٹائی شروع کر دی جس کے جواب میں مقامی افراد نے بھی کارروائی کی۔

یاد رہے کہ آسام کی یہ یونین مرکزی ہندوستان کے ان قبائلیوں کی نماندگی کرتی ہے جنہیں برطانوی دورِ حکومت میں چائے کے باغات میں کام کرنے کے لیے آسام لایا گیا تھا۔

یونین ان قبائلیوں کو ہندوستان کے آئین کے تحت شیڈول قبیلے کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ بہار اور جھارکھنڈ ميں اس برادری کو شیڈول قبیلے کا درجہ حاصل ہے جس سے انہیں ملازمت اور تعلیم کے میدانوں میں بہتر مواقع فراہم ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد