راجستھان ہڑتال، مزید تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں گجر برادری کی ’ فہرست قبائل‘ میں شمولیت کے مطالبے میں جمعرات کو ریاست میں ہڑتال کے دوران تشدد کے نئے واقعات پیش آئے ہیں۔ سوائی مادھوپر ضلع میں تین مزید افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ گزشتہ منگل کو ریزرویشن کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہی گجر برادری کے جلوس پر پولیس فائرنگ ميں چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ریاست میں گجرمظاہرین نے کئی مقامات پر سرکاری دفاتر اور پولیس سٹشنوں کو نذر آتش کر دیا ہے جبکہ وراٹ نگر میں مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ہیں۔ ریاست میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان چھڑپیں ہوئي ہیں۔ راجستھان کے کوٹا، اجمیر، کرولی ، ٹونک، الور اور سوائی مادھوپر اضلاع میں ہڑتال کا خاصا اثر دیکھا دیکھنے میں آیا ہے اور سبب معمول کی زندگی مفلوج ہوگئي ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی معمول کی زندگی متاثر ہوئی ہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے معمول کی بعض ریل گاڑیوں کی سروس معطل رہی ہے جبکہ دیگر کے اوقات اور راستے تبدیل کیے گئے ہیں۔ نجی اور سرکاری بس سروس پوری سے معطل ہے اور سڑکوں پر گاڑیاں بہت کم یا بالکل نہيں چل رہی ہیں۔ دوسری جانب ریزرویشن کے مطالبے کے سلسلے میں جاری تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ریاستی حکومت اور گجر برادری کے درمیان مذاکرات جمعرات کی شام متوقع ہیں۔مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے گجر برادری کے نمائندے جے پور پہنچ چکےہیں۔ بدھ کو ریاستی حکومت اور گجر برادری کے درمیان پہلے دور کی بات چيت ہوئی تھی جس میں حکومت کی جانب سے کابینہ کے چار وزراء حصہ لے رہے ہیں۔ گجر برادری کے مطالبے کے حق میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے چار اسمبلی ارکان اور ایک وزیر نے اپنی رکنیت اور عہدہ سے مستعفی ہونے کا مسودہ پارٹی کے سربراہ کے پاس بھیجا تھا لیکن پارٹی نے ان کے استعفے کو نامنظور کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ منگل کو دوسا ضلع میں ریزرویشن کے مطالبے کے لیے مظاہرہ کرنے والی گجر برادری پر پولیس کی فائرنگ میں ہلاکتوں کے بعد ریاست میں حالات خراب ہو گئے ہیں۔ گزشتہ منگل کو ہلاک ہونے والوں میں سے چھ افراد کی آخری رسومات اب بھی ادا نہیں کی گئی ہیں اور گجر برادری کا مطالبہ ہےکہ جب تک ریزرویشن کے مطالبے کو قبول نہيں کر لیا جاتا اس وقت تک آخری رسومات نہيں کی جائے گی۔ ریاست کے آٹھ اضلاع میں گجر برادری سیاسی طور پر کافی مضبوط ہے اور ’فہرستِ قبائل‘ میں اپنی شمولیت کے لیے مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ ان کی برادری کو بھی وہ تمام مراعات حاصل ہو سکیں جو سرکاری سطح پر قبائلیوں کو ملتی ہیں۔ دوسری جانب فہرست میں شامل ذاتیں گجر برادری کی قبائلی فہرست میں شمولیت کے مطالبے کی مخالفت کر رہی ہیں اور درج فہرست قبائل میں شامل ’مینا برادری‘ ميں بھی غصہ بڑھ رہا ہے۔مینا برادری ریاست کی آبادی کا دس فیصد ہے۔ | اسی بارے میں راجستھان: لڑکوں کے مقابلےمیں لڑکیاں کم23 May, 2007 | انڈیا راجستھان: سیلاب سے سو افراد ہلاک02 September, 2006 | انڈیا راجستھان: ڈاکٹروں کیخلاف تحقیقات 16 May, 2006 | انڈیا جنگلی قبائل کے حقوق کا بل پاس19 December, 2006 | انڈیا راجستھان، بلیئر من موہن ملاقات 08 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||