جنگلی قبائل کے حقوق کا بل پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی پارلیمان نے جنگلات پر قبائلیوں کے حق سے متعلق ایک بل کو منظوری دے دی ہے۔ بل کے مطابق جنگلوں میں رہنے والے قبائلوں کو نہ صرف جنگلوں میں رہنے بلکہ جنگلات سے حاصل ہونے والی اشیاء پر پورا حق ہوگا۔ اس بل سے ان لاکھوں غریب قبائلیوں کو فائدہ ہوگا جو نسل در نسل جنگلات میں رہتے آ رہے ہیں۔ بل پر صدر جمہوریہ اے پی جے ابو الکلام کے دستخط ہونے باقی ہیں جس کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ بل کے قانون بننے کے بعد غریب قبائلیوں کو جنگل میں رہنے اور وہا ں موجود ایشیاء سے ا پنی زندگی گزارنےکا قانونی اختیار مل جائے گا لیکن قبائلیوں کو جانوروں کے شکار کی اجازت نہیں ہوگی۔ جنگلات کے تحفظ کے کارکنوں نے اس بل کی منظوری پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد بلااجازت جانوروں کے شکار میں اضافہ ہو جائے گا اور اس سے جنگلات کو بھی نقصان پہنچےگا۔
جنگلوں میں آباد قبائلیوں کا شمار ملک کی سب سے غریب ترین برادریوں ميں ہوتا ہے۔ قبائلی معاملات کے وزیر پی آر کینڈیا نے کہا ہے ’اس بل کی منظوری سے قبائلیوں کو وہ اختیارات مل جائیں گے جو جنگلات کے تحفظ کے قانون کی وجہ سے انہیں حاصل نہیں تھے‘۔ پی آر کینڈیا نے ایوان میں کہا ’ ہم قبائلیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ہیں اور ہمارا مقصد ہے کہ غریبوں میں سب سے غریب کو اس سےفائدہ پہنچایا جا سکے‘۔ ایک اندازے کے مطابق اس بل کی منظوری سے تقریبًا 70 لاکھ لوگوں کو فائدہ پہنچےگا۔ قبائلیوں کو جنگل میں زمین کے چھوٹے حصہ پر کھیتی کرنےکی اجازت ہو گی اور اس کے ساتھ ہی وہ لوگ شہد کی مکّھی، موم اورجڑی بوٹیوں کااستعمال بھی کر سکيں گے۔ بل میں نیشنل پارک اور ریزروز میں رہنے والے خاندانوں کو دوسری جگہ آباد کرنے اور اسے معاوضہ دینے کی بھی گنجائش ہے۔ | اسی بارے میں ریزرویشن بِل لوک سبھا میں منظور14 December, 2006 | انڈیا نفع بخش عہدے، بِل پھر پارلیمان میں22 July, 2006 | انڈیا ’بل پر اعتراضات دور کریں گے‘31 May, 2006 | انڈیا نفع بخش عہدوں کے لئے بل منظور18 August, 2006 | انڈیا بھارتی ریاستوں کے لیے نئے گورنر 30 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||