نفع بخش عہدوں کے لئے بل منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے صدر اے پی جے عبدالکلام نے پارلیمان کی رکنیت کے ساتھ ساتھ کئی اور عہدے پر فافذ ہونے کے متنازعہ بل کو منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل صدر نے یہ بل دوبارہ غور کے لئے پارلیمنٹ کو واپس کر دیا تھا۔ لیکن پارلیمنٹ میں اسے دوبارہ منظور کر کے اسے صدر کی منظوری کے لئے دوبارہ بھیج دیا تھا۔ اس بل کی منظوری کے بعد تقریبا چالیس اراکین پارلیمان نہ اہل قرار دینے سے بچ جائيں گے۔ موجودہ قوانین کے مطابق ارکان پارلیمان ایسے کسی عہدے پر فافذ نہیں ہو سکتے جن سے انہیں مالی فائدہ ہوتا ہو۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق صدر کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ’صدر عبد الکلام نے نفع بخش عہدے کے اس بل پر دستخط کر دیئے ہیں جسے یکم اگست کو پارلیمنپ نے بلا کوئی تبددیلی کئے دوبارہ صدر کے پاس بھیجا تھا۔‘ گزشتہ روز ہی ملک کی پارلیمنٹ نے نفع بخش عہدوں کی وضاحت اور تشریح کے لئے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ پندرہ رکنی اس کمیٹی میں لوک سبھا کے دس اور راجیہ سھباکے پانچ ارکان شامل ہیں۔ ان اراکین میں راجیہ سبھا کے چیرپرسن بھی موجود ہوں گے۔ ان اراکین کے انتخاب دونوں ایوانوں کے چیرمین کریں گے۔ حزاب اختلاف اور بائيں بازو کی جماعتوں نے یہ کمیٹی تشکیل دیئے جانے کی سخت مخالفت کی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ جب یہ بل صدر کی منظوری کے لئے گیا ہوا ہے تو اس قسم کی کمیٹی تشکیل دینے کا کیا مقصد ہے۔ ماہر آئین سبھاش کشیپ نے صدر کی طرف بل منظوری کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’صدر جمہوریہ سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس پر صلاح و مشورہ کريں گے لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر نظر ثانی کے لئے صرف ایک کمیٹی تشکیل دینے کے اعلان کے بعد انہوں نے اس متنازعہ بل پر دستخط کر دیئے۔ مسٹرکشیپ کاکہنا تھا کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ صدر نے حکومت کے دباؤ میں آکر یہ قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے گزشتہ بجٹ سیشن میں ایک بل منظور کیا تھا جس کے تحت چالیس عہدوں کو نفع بخش عہدوں کی فہرست سے خارج کردیا گيا تھا۔ اس بل کو پارلیمنٹ سے منظوری مل گئی تھی اور اسے صدر اے پی جے عبد الکلام کے پاس منظوری کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن صدر جمہوریہ نے کہا تھا کہ اس بل کو مزید شفاف اور وسیع بنایا جائے اور نفع بخش عہدے طے کرتے وقت کسی ایک کےفائدہ کو ذہن میں نہیں رکھا جائے۔ نفع بخش عہدے کے تنازعہ کے سبب ہی حکمراں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ انہوں نے قومی مشاورتی کاؤنسل کی چیرپرسن کے عہدے سے بھی انہیں استعفی دے دیا تھا۔ | اسی بارے میں عبد الکلام کشمیر کے دورے پر 26 November, 2005 | انڈیا عبدالکلام نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا28 November, 2005 | انڈیا ’بل پر اعتراضات دور کریں گے‘31 May, 2006 | انڈیا نفع بخش عہدے، بِل پھر پارلیمان میں22 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||