دھونی کی زلفوں پر چلی قینچی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کی جن زلفوں کی ستائش پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کی تھی، ان پر قینچی چل چکی ہے۔ لمبے وقفے کے بعد مہندر سنگھ دھونی بدھ کو جب اپنے شہر رانچی پہنچے تو ٹوئنٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کی فتح سے زیادہ چرچا اس بات پر ہوا کہ دھونی کے بالوں کا کیا ہوا؟ دھونی کے بال چھوٹے اور بالکل مختلف سٹائل کے نظر آ رہے تھے۔ رانچی کے کھیل صحافی اجے کوکریتی کے مطابق دھونی نے اپنے بال ایک مذہبی رسم کے بعد بڑھا لیے تھے اور یہ انکی پہچان بن گئی تھی۔ اور پاکستان کے دورے پر گئی بھارتی ٹیم کی ملاقات جب جنرل پرویز مشرف سے ہوئی، تو انہوں نے دھونی کی زلفوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انہیں نہ کٹوائیں۔
دوسری جانب دھونی کے خاندانی ذرائع کے حوالے سے یہ بتایا گیا کہ دھونی کو اپنے لمبے بال سنبھالنے میں دقت ہو رہی تھی اس لیے انہوں نے اپنے بال چھوٹے کرا لیے۔ دھونی نے اپنے بال چار سال قبل اپنی آبائی ریاست اتراکھنڈ میں ایک مذہبی رسم کے بعد بڑھائے تھے۔ انکی ماں کو بھی یہ بال پسند تھے۔ دھونی بدھ کو جب رانچی پہنچے تو کسی سے کوئی بات کیے بغیر سیدھے اپنی بہن کے گھر چلے گئے حالانکہ ہوائی اڈے پر انکا استقبال کرنے کے لیے ڈھول باجے بجائے جار رہے تھے۔ دھونی کے رانچی پہنچنے کی خبر بالکل مخفی رکھی گئی تھی اس لیے ان کے بہت سے مداح ہوائی اڈے نہيں پہنچ پائے تھے۔ جو لوگ پہنچے تھے وہ ’دھونی زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے لیکن وہ اپنے مقامی ہیرو سے ملنے سے قاصر رہے۔ مہندر سنگھ دھونی کو جمعرات کے دن جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ مدھو کوڑا سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مسٹر کوڑا دھونی کے لیے اعلان کردہ ’سرپرائز‘ کا راز بھی کھول دیں گے۔ |
اسی بارے میں دھواں دھار دھونی07 January, 2006 | کھیل دھونی کے مداح آئی سی سی سے ناراض09 September, 2006 | کھیل جھارکھنڈ رتن :ڈی ایس پی دھونی24 September, 2007 | کھیل کرکٹ میں ایک نئی روح آ گئی ہے25 September, 2007 | کھیل رانچی کو دھونی کا انتظار28 September, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||