انڈیا، پاکستان تجارت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان (اٹاری) واہگہ سے ٹرکوں کے ذریعے تجارت ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے۔ آزادی کے ساٹھ برس بعد یہ پہلی بار ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان ٹرک کے ذریعے تجارت کا عمل شروع ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 50 کلومیٹر لمبے اس راستے کے ذریعے ہونے والی تجارت کو دونوں ملکوں کے درمیان جاری قیامِ امن کے عمل میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ پیر کو اٹاری کے راستے ٹماٹروں سے لدا ایک ٹرک پاکستان کے لیے روانہ ہوا ہے۔ اقتصادیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے تجارت سے متعلق ضابطوں میں نرمی برتی تو دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی تجارت کی مالیت سالانہ چھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے سیاسی رشتوں میں بھی بہتری آئے گي۔ اٹاری سرحد چھ سو سال سے ہندوستان کو افغانستان اور مرکزی ایشیا سے جوڑنے والا ایک اہم تجارتی راستہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد یہ راستہ بند کردیا گیا تھا۔ ہر سال انڈیا سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی مالیت کا ساز و سامان پاکستان برآمد ہوتا ہے۔ لیکن اب یہ توقع کی جارہی ہے کہ تجارت کا نیا روٹ کھلنے کے بعد یہ تجارت دوگنی ہوجائےگی۔ نئے روٹ کی وجہ سے تجارت کا عمل آسان اور وقت و اخراجات میں کمی آئے گی۔ ہندوستان سے پاکستان کو سبزی گوشت اور جانور برآمد ہوں گے اور پاکستان سے پھل میوے اور مسالے درآمد کیے جائیں گے۔ | اسی بارے میں پاک بھارت تجارت: بینک کھلیں گے 06 October, 2005 | انڈیا پاکستان بھارت: تجارت میں اضافہ 10 August, 2005 | انڈیا تجارت کا فروغ مسئلہ کشمیر کا حل25 November, 2004 | انڈیا بھارت میں اب چینی طرز کے تجارتی زون10 May, 2005 | انڈیا کھوکھرا پار، مونا باؤ بات چیت04 January, 2006 | انڈیا پاکستانیوں کے لیے ویزے میں نرمی30 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||