BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 September, 2007, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ذات پات کا اظہار اختیاری ہے:عدالت

ہندوستان کی سپریم کورٹ
داخلے کے فارم سے ذات پات کا کالم پوری طرح ختم نہیں کیا جا سکتا:سپریم کورٹ
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ سکول میں داخلے کے فارم پر طلباء کو ان کی ذات ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ملک کے بیشتر علاقوں میں سکولز کے فارم پر ذات پات کا ایک کالم ہوتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ شرط اختیاری ہے لازمی نہیں۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی گئی تھی جس میں عدالت سے سکول کے فارم پرذات پات کے سوال کو پوری طرح ختم کرنے کی گزارش کی گئي تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہے چونکہ بہت سے طلباء ذات پات کی بنیاد پر سکالر شپ جیسے فائدے حاصل کرتے ہیں اس لیے اس پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔

جواہرلال یونیورسٹی میں پروفیسر مینیجر پانڈے نے ذات پات کے نظام پر کافی کام کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں کہاکہ بہت سے سکول اس کے لیے طلباء کو مجبور کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’اب وہ لوگ جو ذات پات سے بچنا چاہتے ہیں وہ عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیکر بچ سکتے ہیں لیکن اس کا سماج پر کوئی خاص اثر نہیں پڑےگا‘۔

 اگر اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے اور ملازمتوں میں ریزرویشن کی سہولیت سے فائدہ اٹھانا ہے تو ذات پات کا ذکر ضروری ہوگا
یوگیندر یادو

پروفیسر پانڈے کا کہنا تھا کہ آج کل ذات کی بنیاد پر کئی طرح کے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں اس لیے بہت سے لوگ ذات کے جھوٹے سرٹیفیکٹ تک حاصل کرلیتے ۔

سماجی تجزیہ کار یوگیندر یادو کاکہنا ہے کہ اعلٰی تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں ریزرویشن کا سسٹم ذات پات کی بنیاد پر مبنی ہے اس لیے سکولز فارمز سے اسے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ اگر اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے اور ملازمتوں میں ریزرویشن کی سہولت سے فائدہ اٹھانا ہے تو ذات پات کا ذکر ضروری ہوگا۔

جامعیہ ملیہ اسلامیہ سکول کی پرنسپل آرایف نقوی کہتی ہیں داخلے کے فارم پر یہ کالم ہے لیکن لازمی نہیں ہے۔’ بہت سے طلباء ریزرویشن کے فائدے کے لیے ذات کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے لیے انہیں سرٹیفیکٹ بھی دینا ہوتا ہے، لیکن بہت سے نہیں کرتے تو یہ ضروری نہیں ہے، جو لوگ فارم میں ذات کا ذکر کرتے ہیں ہم انہیں ضرورت پڑنے پر سرٹیفکٹ بھی جاری کرتے ہیں‘۔

مفاد عامہ کی عرضی میں کہا گیا تھا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں سکولز طلباء کو اپنی ذات ظاہر کرنے پر مجبور کرتے ہیں جس سے ذات پات کو بڑھاوا ملتا ہے اس لیے اسے پوری طرح سے ختم کردیا جائے۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ ذات پات کی بنیاد پر طلباء کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے جس کے سبب کئی بار ان کے نتائج تک متاثر ہوتے ہیں۔

فائل فوٹو’مدھیا پردیش‘
ریپ کا بیان نہ بدلنے پر لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا
دلتکوٹے کی سیاست
پسماندہ افراد کے لیئے کوٹہ پر تنازعہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد