سہراب قتل کیس، تیرہ پر فردِ جرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات سی آئي ڈی پولیس نے سہراب الدین شیخ پولیس مقابلہ کیس میں معطل ڈی آئی جی ڈی جی ونجارہ سمیت تیرہ پولیس اہلکاروں کے خلاف فرد جرم داخل کر دی ہے۔ سی آئی ڈی پولیس افسر گیتا جوہری نے سہراب الدین کی ہلاکت کے واقعے کی مفصل تفتیش کے بعد احمدآباد کی ایک ذیلی عدالت میں فرد جرم داخل کی ہے۔ جن افسران پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے ان میں سے نو کا تعلق گجرات اور چار کا راجستھان سے ہے۔گیتا جوہری کے مطابق انہیں اپنی تفتیش میں فرضی تصادم کے اس واقعہ میں کسی سرکاری رہنما کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔ سہراب الدین کو نومبر دو ہزار پانچ میں گجرات اور راجستھان پولیس کے تین اعلیٰ افسران نے لشکرِ طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ایک فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا۔اور پولیس نے یہ بھی بتایا تھاکہ سہراب الدین وزیرِاعلٰی نریندر مودی کے قتل کرنے کے مشن پر تھا۔ اس آپریشن کی قیادت ڈی جی ونجارہ نے کی تھی۔ سی آئی ڈی نے تمام متعلقہ پولیس افسروں کے بیانات ویڈیو ٹیپ کیے تھے اور اس معاملے میں تین پولیس افسران ڈی آئی جی ڈی جی ونجارہ، پانڈین اور الور کے سپرٹینڈینٹ ایم این دنیش کمار کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں بعد ازاں معطل بھی کر دیا گیا تھا۔ سہراب الدین کے بھائی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی جس میں اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تفتیش کے دوران سہراب الدین کی بیوی کوثر بی اور سہراب کے ایک دوست تلسی پرجاپتی کے قتل کا پتہ چلا تھا لیکن بظاہر ان واقعات میں کوئي پیش رفت نہيں ہوئي ہے۔ | اسی بارے میں ’سچ جھوٹ ٹیسٹ سےانکار‘14 June, 2007 | انڈیا فرضی تصادم، CBI کی تفتیش نہیں17 May, 2007 | انڈیا جعلی پولیس مقابلے: دہلی میں مظاہرہ16 May, 2007 | انڈیا پولیس مقابلہ: رپورٹ عدالت میں14 May, 2007 | انڈیا زیرِ حراست پولیس افسران کی معطلی06 May, 2007 | انڈیا گجرات: پولیس افسروں کا ریمانڈ05 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||