باراؤ :ہندوستان و پاکستان کا معمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کولکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کی حکومت کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ باراؤ عبدل نام کی اس خاتون کے بارے میں ضروری تفتیش کر کے تمام تفصیلات چار ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کرے جو ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ تقریباً تیس برس کی اس خاتون کے بارے میں تمام پولیس اور قانونی دستاویز میں یہی درج ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی شہری ’باراؤ عبدل‘ ہے۔ باراؤ تقریباً ایک برس قبل مغربی بنگال کے ساحلی قصبہ دیگھا کے ایک ہائی وے کے قریب بے ہوشی کی حالت میں ملی تھیں۔ جہاں چند سماجی کارکنوں نے انہیں کونٹائی قصبے کے سرکاری ہسپتال میں ستائیس اپریل دوہزار چھ کو داخل کرادیا۔ مقامی پولیس نے جو بیان ریکارڈ کیا ہے اس کے مطابق وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع ’ہرچوال‘ کے گاؤں ’بلگاوں‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستانی ہائی کمیشن کی پریس کاؤنسلر رفعت مسعود نےرابطہ کرنے پر بتایا کہ’ میڈیا میں اس خاتون کے بارے میں رپورٹیں آنےکے بعد ہم نے وزارت خارجہ سے تقریباً چھ ماہ قبل گزارش کی تھی اس خاتون کی تفصیلی معلومات فراہم کی جائے لیکن ابھی کوئی جواب نہيں آیا ‘۔ رفعت مسعود نےپاکستا ن کے زیر انتظام کشمیر میں یا پھر پاکستان میں ہرچوال نام کے شہر یا بلگاؤں نام کے گاؤں کی موجودگی کے بارے میں اپنی لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم نے یہ نام کبھی پہلے نہيں سنا‘۔ نفسیاتی علاج کی شدید ضرورت کے پیش نظر اگست دو ہزار چھ کو باراؤ کو کولکتہ کے نیل رتن سرکاری ہسپتا ل ميں منتقل کیاگیا۔وہاں باراؤ کے مثانےمیں پتھری پائی گئی جسے نکالنے کے لیے آپریشن کی ضرورت ہے۔ مغربی بنگال’ لیگل ایڈ سروسز‘ نام کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ گیتا ناتھ گنگولی نےعدالت میں مفاد عامہ کی ایک پٹیشن دے کر باراؤ کے ’قانونی سرپرست‘ بننے کی درخواست کی ہے۔ آپریشن کے لیے ضابطے کے تحت کسی قانونی سرپرست کی منظوری ضروری ہے۔ اس پٹیشن کی سماعت کے بعد ہی گزشتہ ہفتےعدالت نے حکومت سے باراؤ کی حیثیت کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کولکتہ کے ایک معروف ماہر قانون اور سوشل ورکر سارب گنگوپادھیائے جو کہ لیگل ایڈ سروسز سے بھی منسلک ہيں، کہتے ہيں’ وہ مسلسل سردمہری و بے رخی کی شکار ہے وہ کونٹائی ہسپتال کے بیڈ پر تین ماہ تک پڑی رہی اور کسی نے بھی طبی معائنہ کرکے یہ معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اسپتال میں داخلے سے پہلے اس لڑکی کے ساتھ کہیں جنسی زیادتی تو نہيں ہوئی ہے۔
گنگوپادھیائے کہتے ہیں یہ بدقسمتی ہی تو ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں چودہ ماہ کے قیام کے بعد اب حکومت کو اس کی شناخت کا خیال آيا ہے وہ بھی عدالت کے حکم کے بعد‘۔ لیگل ایڈ سروسز کے گیتاناتھ گانگولی کا کہنا ہے’ ماہرین کی موجودگی میں کی گئی پولیس تفتیش کے بغیر باراؤ کے کسی بھی بیان پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی شہریت یا پہچان کے بارے میں کچھ یقین نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ وہ نفسیاتی مریض ہے‘۔ باراؤ نے اس نامہ نگار کو ایک ملاقات میں کئی بار بتایا کہ اس کا نام بیرو بی بی عبدل ہے اور اس کی پیدائش پہلگام کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے والد کا نام شنکر دیال اور شوہر کا نام عبدالرحمن ہے۔ اپنے نانا کا نام وہ گیل سنگھ ہے اور کہتی ہے اس کی ’ماسی‘ یعنی خالہ جیت اور ’ماسا‘ یعنی خالو دربارا سنگھ پنجاب میں رہتے ہیں۔ ہسپتال کے بیڈ پر بیٹھ کر باراؤ اکثر اپنے والد کو شستہ ہندی میں خط لکھتی ہے ’پاپاجی مجھے نیل رتن سرکار ہسپتال سے لے جانے کی کرپا(مہربانی) کریں‘ ہسپتال میں باراؤ کا بھی ایک ہی کام ہے اپنے گھروالوں کی آمد کا انتظار۔ | اسی بارے میں ’جدائی کا کرب وہی جانے جو جدا ہو‘22 June, 2007 | انڈیا ’اب سامعہ کا جہیز نہیں پہنچے گا‘20 February, 2007 | انڈیا پاک بھارت مذاکرات آئندہ ماہ12 May, 2007 | انڈیا پاکستانی پاسپورٹ جلانے پر جیل25 April, 2007 | انڈیا ’تعلقات میں بہتری ضروری ہے‘24 April, 2007 | انڈیا ویزے کے بغیر پاکستانی اجمیر میں02 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||