پاکستانی پاسپورٹ جلانے پر جیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی کی ایک ذیلی عدالت میں ان پاکستانی شہریوں کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے جنہیں پاکستانی پاسپورٹ جلانے کےالزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ منگل کو پاکستانی پاسپورٹ جلانے کے الزام میں کو دلی کی تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں وزارت خارجہ، پاکستانی ہائی کمیشن اور وزارت داخلہ کی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے اور ان رپورٹس کی بنیاد پر ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائےگا۔ پچاس سے زیادہ ان افراد کا تعلق مہدی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نامی تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔ ایک شخص میر لالی نےاپنے آپ کو مہدی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کا جنرل سکریٹری بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان میں ان کی تنظیم کے ارکان کو ان کے عقیدے کے سبب ہراساں کیا جاتا ہے اس لیے یہ لوگ ہندوستان میں سیاسی پناہ چاہتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا ’احتجاج کے دوران جذبات میں آکر لوگوں نے اپنے پاسپورٹ یہ سمجھ کر جلا دیے ہیں کہ اب انہیں واپس نہیں جانا ہے۔ پاکستان میں ان کی زندگی کو خطرہ ہے اس لیے کوئی بھی واپس نہیں جانا چاہتا ہے‘۔ اس تنظیم کے پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پیشوا ریاض گوہر شاہی ’امام مہدی‘ ہیں۔
حال ہی میں دلی میں پاکستان کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے میں بہت سے لوگوں نے اپنے پاکستانی پاس پورٹس جلا دیے تھے ۔ اس معملے میں پولیس نے سات بچوں اور انیس خواتین سمیت 55 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ سبھی افراد تہاڑ جیل میں قید ہیں اور اس معاملے پر کوئی بیان دینے سے گریز کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایک مخصوص مذہبی عقیدے کے لوگوں کو اتنی بڑی تعداد میں تقریباً ایک ساتھ ویزا کیسے جاری کیا گیا۔ اس بارے میں ہندوستان کی وزارت خارجہ اور پاکستان کے ہائی کمیشن نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ | اسی بارے میں انسانی حقوق کی پامالی: احتجاج07 December, 2004 | صفحۂ اول شیرون مخالف مظاہرے09 September, 2003 | صفحۂ اول لڑکیوں کی حراست کےخلاف مظاہرے01.02.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||