انڈیا: ماؤ باغیوں کی ’ناکہ بندی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار، جھارکھنڈ اور اڑیسہ میں ماؤ نواز باغیوں نے مرکزي حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور خصوصی اقتصادی خطے یعنی ایس ای زیڈ کے خلاف اڑتالیس گھنٹوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ بہار سے ہمارے نامہ نگار ایس ایم احمد نے بتایا کہ ماؤ نواز تنظیم ’سی پی آئی ایم’ کی جانب سے اعلان کردہ دو روزہ اقتصادی ناکہ بندی کی وجہ سے بہار اور جھارکھنڈ میں ریلوے سروسز بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ دونوں ریاستوں میں ریلوے حکام نے متعدد ٹرینوں کی آمد و رفت کے راستے تبدیل دیے ہیں۔ ماؤ نواز باغیوں کی ناکہ بندی کی یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں پیش آئی ہے جبکہ ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں بہار، جھارکھنڈ اور اتر پردیش کے سول حکام نے ماؤ نواز تشدد سے نمٹنے کے لیے ایک میٹنگ کی ہے۔ بہار کی وزارت داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری افضل امان اللہ کے مطابق ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تینوں ریاستوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب نیپال کی سرحد سے متصل بہار کے علاقوں چمپارن، سیتامڑھی اور شوہر ضلعوں میں خصوصی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مظفرپور اور ویشالی ضلع میں بھی ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے تشدد کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس علاقے کے آئی جی پولیس کرشنا چودھری کے مطابق پولیس کو ریلوے ٹریک کے علاوہ بینکوں کی بھی خاص نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔ نکسلی تنظیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کی یہ کارروائی ان کی تنظیم کے قید کیے گئے بعض ارکان کے ساتھ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف کی گئی ہے۔ اس ناکہ بندی کی وجہ سے متعدد ٹرینوں کو شام ہوتے ہی روک دیا گیا جس سے مسافروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جھارکھنڈ سے بی بی سی کے نامہ نگار سلمان راوی کے مطابق ماؤ نواز باغیوں نے ایک ٹرین کے ڈرائیور اور گارڈ کو اغواء کرلیا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے دمکا کے امرپاڑا علاقے میں کوئلے کی ایک کان کے چھ ٹرکوں کو جلا دیا اور چار ملازموں کو بھی اغواء کرلیا ہے۔ دھنبار منڈل میں ریلوے کے اہلکار اجے شکلا نے بی بی سی کو بتایا: ’تشدد کے ان واقعات کے بعد حکام نے بیس ٹرینوں کی آمدورفت کو منسوخ کردیا اور کئی ٹرینوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں‘۔ دریں اثنا ماؤ نواز باغیوں کے تشدد سے نمٹنے کے لیے بہار، اتر پردیش اور جھارکھنڈ کے حکام کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تینوں ریاستیں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گی۔ بہار کے وزارتِ داخلہ کے مطابق اکثر نکسلی ایک ریاست میں کارروائی کرنے کے بعد دوسری ریاست میں پناہ لیتے ہیں اور قانونی دقتوں کی وجہ سے پولیس کے لیے سرحد پار کرکے کارروائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بقول مسٹر امان اللہ کے ’اسی دقت سے نمٹنے کے لیے نئی حکمتی عملی تیار کی گئی ہے۔ تینوں ریاستوں کے اعلیٰ عہدہ داروں نے یہ فیصلہ کیا کہ ماؤ باغیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے پولیس کو دوسری ریاست کی سرحد پار کرنے کی اجازت ہوگی۔ |
اسی بارے میں بہار: ماؤ باغیوں نے ساتھی چھڑا لیے 14 November, 2005 | انڈیا ماؤ باغی: جنگ بندی کی پیشکش16 June, 2004 | انڈیا ماؤ باغیوں نے سٹیشن اڑا دیا09 April, 2006 | انڈیا ماؤ باغیوں کا حملہ،چھ ہلاک25 April, 2006 | انڈیا آندھرا پردیش: چار ماؤ باغی ہلاک19 October, 2006 | انڈیا ماؤ باغیوں کا حملہ، نو اہلکار ہلاک29 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||