BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائل کی لڑائی میں مزید پانچ ہلاک
فرید آباد میں ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس نے ہوا میں فائرنگ کی
راجستھان میں پسماندہ گُجر برادری کے فہرستِ قبائل میں شمولیت کے مطالبے پر احتجاج جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز تشدد میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اب اس معاملے میں کشیدگی کئی دیگر ضلعوں تک پھیل گئی ہے اور کئی علاقوں میں تشدد کے تازہ واقعات ہوئے ہیں۔

غیر سرکاری ذرائع کے مطابق جمعہ کے واقعات میں نوافراد مارے گئے ہیں اور کم از کم سترہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ادھر راجستھان کی مینا برادری کے لوگوں کی طرف سے گُجروں کے مطالبے کی سخت مخالفت جاری ہے اور اب مینا برادری اور گجروں کے درمیان زبردست کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق دونوں برادریوں کے درمیان جھڑپ میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور جھڑپوں کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔

راجستھان میں بی بی سی کے نامہ نگار نارائن باریٹھ کے مطابق جمعہ کے روز ہلاکتوں کی بڑی وجہ مینا اور گوجر برادری کے درمیان جھڑپیں تھیں۔ بقول ان کے کشیدگی زیادہ ہے جس پر قابو پانے کے لیے جگہ جگہ نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

قبیلے والے احتجاجاً مرنے والوں کی آخری رسومات ادا نہیں کر رہے

اس معاملے میں کشیدگی راجستھان کے علاوہ پڑوسی ریاست ہریانہ تک پھیل گئی ہے۔ ریاست کے سوائی مادھو پور اور بھرت پور اضلاع میں جمعہ کو تشدد کے دوران چار مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان دونوں ضلعوں میں پولیس کو حکم ہے کہ وہ گڑ بڑ کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مار دے۔

جمعہ کو فرید آباد میں مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس نے ہوا میں فائرنگ کی جبکہ پولیس کی ایک جیپ کو آگ لگا دی گئی۔

جمعرات کو گجر لیڈروں اور حکومت کے درمیان بات چيت بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئی تھی جو جمعہ کو پھر شروع ہوئی ہے۔گجروں کے ایک رہنما کرنل کروری لال بیسالہ نے کہا: ’یہ چوتھے دور کی بات چیت ہے اور اگر یہ بھی ناکام رہی تو پھر ہم بات نہیں کریں گے، پھر نیشنل ہائی وے کو جام کرنے کی بجائے احتجاج کا کوئی دوسرا طریقہ تلاش کیا جائے گا۔‘

نیشنل ہائی وے گزشتہ کئی روز سے بند ہے جس سے راجستھان، ہریانہ اور اس علاقے سے گزرنے والی تمام بسیں، ٹرک اور ٹرینیں بند پڑی ہیں۔ مینا برادری نے کہا ہے کہ اگر ہائی وے نہیں کھلی تو وہ خود اس کے خلاف کارروائی شرع کریں گے۔ ریاست کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریا کا کہنا ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ریاست میں اس طرح کا تشدد دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔

اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکامی پر ریاست کی وزیراعلی وسندھرا راجے سندھیا پر سخت نکتہ چینی ہورہی ہے۔ ریاستی حکومت میں اس معاملے پر اختلافات بھی ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ اس کے علاوہ مینا اور گجر برادریوں کے ریاستی وزراء مخالفانہ بیانات دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد