سنجےکیس: عدالت نے رپورٹ طلب کی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکے کیس کی خصوصی عدالت نے فلم سٹار سنجے دت کے بارے میں پروبیشن آف اوفینڈرز ایکٹ کے تحت رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سنجے نے عدالت سے مذکورہ قانون کے تحت رہائی کی اپیل کی تھی۔ وہ ٹاڈا کے قانون سے پہلے ہی بری ہوچکے ہیں۔ بدھ کو اس معاملے میں ٹاڈا قانون کے تحت مجرم قرار دیے گئے تقریبا 75 افراد نے عدالت کے سامنے پروبیشن آف اوفینڈرز ایکٹ کے تحت رہائی کی اپیل داخل کی ہے۔ عدالت نے اسے مسترد کرنے کے بجائے محفوظ کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے ممبئی میں 1993 کے بم دھماکے کے 123 ملزمان میں سے سو کو مجرم قرار دیا ہے جن میں سے زیادہ تر اس وقت جیل میں ہیں۔ وکیل صفائی فرحانہ شاہ کا کہنا ہے کہ جیل میں قید تقریبا 75 مجرموں نے عدالت کے سامنے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے سنجے کی طرح مذکورہ قانون کے تحت رہائی کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہناہے کہ وہ کوئی عادی مجرم نہیں ہیں بلکہ جو کچھ ہوا وہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے رد عمل کے طور پر ہوا۔ ان مجرموں میں زیب النساء قاضی، سلیم درانی اور شیخ عزیز بھی شامل ہیں جب کہ ٹائیگر میمن کے خاندان کے لوگ اپیل کرنے والوں میں شامل نہیں ہیں۔ عدالت نے اس بات کومخفی رکھا ہے کہ مذکورہ قانون کے تحت کِن مجرموں کی درخواستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ توقع ہے کہ عدالت اٹھارہ مئی سے سزا سنانا شروع کرے گی۔ پروبیشن آف اوفینڈرز ایکٹ کا فائدہ ان مجرموں کو ہو سکتا ہے جنہیں عدالت نے عمر قید یا پھانسی کی سزا نہ دی ہو یا ایسے مجرم جنہوں نے انجانے میں پہلی بار کوئی جرم کیا ہو۔ عدالت ایسے مجرموں کے لیے ایک افسر مقرر کرتی ہے جو مجرم کے گھروالوں، رشتہ داروں دوستوں سے، مجرم کے چال چلن اور اچھے برتاؤ کی تفتیش کرتا اور عدالت میں رپورٹ پیش کرتا ہے جس کی بنا پر عدالت مجرم کو بری کر سکتی ہے۔
سنجے دت کو عدالت نے ٹاڈا سے بری کر دیا ہے لیکن ان پر اسلحہ قانون کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہوا ہے۔ ان کے وکیل وی آر منوہر نے پروبیشین آف اوفینڈرز ایکٹ کے تحت اپیل داخل کر کے عدالت میں جرح کی تھی کہ ان کے موکل نے اے کے 56 رائفل اپنے گھر والوں کی حفاظت کے لیے منگوائی تھی لیکن اس کا استعمال نہیں کیا۔ سی بی آئی کے وکیل اجول نکم نے اس کی مخالفت میں کہا کہ سنجے بالغ تھے اور انہیں یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ اس اسلحہ کا استعمال غیر قانونی ہے۔ اس کے علاوہ سنجے نے وہ اسلحہ مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم کے بھائی انیس ابراہیم سے منگوایا تھا۔ جسے مافیا کی دنیا سے وابستہ افراد ابو سالم اور بابا چوان ان کے بنگلے پر لے کر گئے تھے۔ سنجے کے تین اور ساتھیوں یوسف نل والا، کیرسی ایڈجانیا اور روسی ملا نے بھی اسی قانون کے تحت رہائی کی اپیل کی ہے۔ سنجے کے کہنے پر ان تینوں نے اے کے 56 رائفل ایڈجانیا کی بھٹی میں جلا دی تھی۔ |
اسی بارے میں سنجےدت کی پیشی28 November, 2006 | انڈیا سنجے دت کو مجرم قرار دے دیا گیا28 November, 2006 | انڈیا امرتسر میں سنجے دت کے لیے دعائیں 16 November, 2006 | انڈیا سنجے دت پر فیصلہ دیوالی کے بعد18 October, 2006 | انڈیا سنجے دت کیس کا فیصلہ متوقع16 October, 2006 | انڈیا بم دھماکہ کیس کے ملزم سنجے دت 10 August, 2006 | انڈیا سنجے دت اور ابو سالم عدالت میں09 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||