BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 May, 2007, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذہب کی بنیاد پر گنتی نہیں ہو گی‘
ہندوستان فوج
گزشتہ سال سچر کمیٹی نے فوج میں مسلمانوں کی تعداد کی تفصیلات طلب کی تھیں
ہندوستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ مسلح افواج میں مذہب کی بنیاد پرگنتی نہيں کی جائے گی کیوں کہ ایسا کرنے سے افواج کی سیکیولر اور غیر سیاسی شبیہ کو نقصان ہو سکتا ہے۔

بدھ کے روز راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں وزیر دفاع اے کے انتھنی نے کہا ’افواج میں اس طرح کی تعداد کے تعین کو سود مند نہیں مانا گيا ہے کیوں کہ ایسا کرنے سے افواج کی اخلاقیات اور ربط پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ مسلح افواج نے مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی راجیندر سچّر کمیٹی کوافواج کی تینوں شاخوں میں مسلمانوں کی تعداد بتانےسے کیوں انکار کیا تو ان کا کہنا تھا ’افواج ایک سیکیولر اور غیر سیاسی ادارہ ہے‘۔

وزیر دفاع نے پارلیمان میں بتایا ’افواج میں بحالی خالصتاً صلاحیت اور بلا امتیاز مذہب، ذات اورخطہ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔اور افواج کے دروازے سبھی ہندوستانیوں کے لیے کھلے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’افواج میں جو افراد کام کر رہے ہیں وہ تمام فرقوں اور خطوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنا فرض منصبی بغیر تفریق ذات اور مذہب کے انجام دیتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ برس حکمواں ترقی پسند اتحاد کی جانب سے مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی راجیندر سچّر کمیٹی نے افواج کی تینوں شاخوں میں مسلمانوں کی تعداد بتانےکے لیے کہا تھا۔

اس وقت حکومت کی جانب سے سچر کمیٹی کی تشکیل کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے زبردست مخالفت کی تھی۔ اور مسلح افواج میں مسلمانوں کی گنتی کو ہندو نظریاتی تنظیموں نے سلامتی کے لیے خطرہ اور اقلیتوں کو خوش کرنے والا قدم بتایا تھا۔

سچر کمیٹی نے افواج سے مسلمانوں کی تعداد کی تفصیلات گزشتہ برس مارچ میں طلب کی تھیں لیکن اس وقت فوج کے سربراہ جے جے سنگھ نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی تھی کہ اس سے فوج کو ایک غلط اشارہ ملے گا جو بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی اور سیکیولر ادارہ ہے۔

خیال رہے کہ دیگر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلح افواج ميں مسلمانوں کی تعداد بہت کم بتائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد