اتر پردیش: مایاوتی نے حلف اٹھا لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے ریاست اترپردیش کی وزیراعلٰی کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ریاست کےگورنر ٹی راجیشور نے اتوار کو ان سے حلف لیا۔ یہ چوتھا موقع ہے کہ مایا وتی اتر پردیش کی وزیراعلٰی مقرر ہوئی ہیں۔ مایاوتی کے ساتھ ان کی کابینہ کے انچاس ارکان نے بھی حلف اٹھایا۔ پچاس رکنی کابینہ میں وزیرِاعلٰی سمیت انیس کابینہ یا ریاستی وزیر ہیں جبکہ باقی جونیئر وزیر ہیں۔ کابینہ میں ایک مسلم ، تین برہمن اور چار دلت وزراء بھی شامل ہیں۔ جن اہم شخصیات کو کابینہ میں جگہ ملی ہے ان میں بی ایس پی جنرل سیکریٹری نسیم الدین صدیقی، پارٹی کے ریاستی صدر لال جی ورما اور سوامی پرساد موریہ شامل ہیں۔ تاہم اس نئی کابینہ میں کسی بھی خاتون کو کابینہ درجہ کا وزیر نہیں بنایا گیا ہے۔ یو پی کے اسمبلی انتخابات میں مایا وتی کی پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی ہے اور چار سو تین رکنی اسمبلی میں بی ایس پی کو دو سو چھ سیٹیں ملی ہیں۔ سنہ انیس سو اکانوے کے بعد پہلی بار ریاست میں کسی ایک جماعت کو چار سو تین ارکان کی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے اور اس طرح چودہ سال بعد ریاست میں کسی ایک پارٹی کی حکومت قائم ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان ملائم سنگھ کی جماعت سماجوادی پارٹی کو ہوا ہے جسے اس بار صرف نناوے سیٹیں ملی ہیں اور اڑتالیس سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ بی جے پی کو اکاون سیٹیں ملی ہیں اور اسے بیالیس کا نقصان ہوا ہے جبکہ راہل گاندھی کی انتخابی مہم کے باوجود کانگریس پارٹی کو صرف بائیس سیٹیں ملی ہیں۔ | اسی بارے میں اتر پردیش میں انتخابات شروع13 March, 2007 | انڈیا دلت رہنما کانشی رام کا انتقال09 October, 2006 | انڈیا دلتوں سے امتیازی سلوک جاری ہے 06 December, 2005 | انڈیا بی ایس پی کو واضح اکثریت11 May, 2007 | انڈیا ملائم سنگھ: ’اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا‘21 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||