BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مایاوتی: سیاسی خاکہ

مایاوتی
مایاوتی ہندوستان میں دلت برادی کی سب سے بڑی رہنما ہیں
ہندوستان میں دلت برادری کی شعلہ بیان رہنما مایاوتی اپنے سیاسی شعور کا لوہا منواتے ہوئے گزشتہ بارہ برسوں میں چوتھی مرتبہ ریاست اترپردیش کی قیادت کرنے جارہی ہیں۔

’ایکزیٹ پولز‘ کے تمام وعدوں اور تجزیہ کو غلط ثابت کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی ) کی سربراہ مایاوتی نہ صرف ریاست میں حکومت سازی کرنے جارہی ہیں بلکہ انہوں نے پہلی بار بی ایس پی کو ریاست میں واضح اکثریت کے ساتھ فتح سے ہمکنار کیا ہے۔

ہندوستان میں صدیوں سے ظلم و زیادتی اور تفریق کا شکار ہونے والے دلتوں کے ایک خاندان میں مایاوتی نے پندرہ جنوری انیس سو چھپن میں جنم لیا۔محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے ملازم پربھوداس کی بیٹی مایاوتی بچپن میں ڈسٹریکٹ مجسٹریٹ بننا چاہتی تھیں۔انہوں نے تعلیم دلی اور میرٹھ کی یونیورسیٹیوں سے حاصل کی اور سکول ٹیچر کی نوکری کی۔

جب انیس سو چوراسی میں دلت اور پسماندہ ذاتوں کی ترقی کے نام پر بہوجن سماج پارٹی کا قیام ہوا تو مایاوتی نے سکول کی ملازمت ترک کر کے سیاست میں قدم رکھا۔

بی اسی پی کے بانی کانشی رام نے مایاوتی کی صلاحیت کو ‎‎‎سمجھا اور انہیں اپنی پارٹی میں شامل کیا اور یہی فیصلہ بی ایس پی کے لیے میل کا پتھر ثابت ہوا۔

مایاوتی پہلی بار انیس سو نواسی کے عام انتخاب میں بجنور لوک سبھا سیٹ سے منتخب ہوئیں۔اس کے بعد مسلسل انیس سو اٹھانوے اور ننانوے میں اکبر پور حلقے سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئیں۔

تین جون انیس سو پنچانوے کو مایاوتی نے پہلی مرتبہ وزیراعلی کا عہدہ سنبھالا۔ وہ ہندوستان کی تاریخ میں کسی ریاست کی وزیر اعلی بننے والی پہلی دلت خاتون بن گئیں۔

 اکاون سالہ مایاوتی غیر شادی شدہ ہیں اور ان کے مداح ان کو'بہن جی' کہہ کر پکار تے ہیں۔ا ن کے مخالفین انہیں شاطر سیاسی رہنما تصور کرتے ہیں۔

اکیس مارچ انیس سو ستانوے اور تین مئی دو ہزار دو میں بالترتیب دوسری اور تیسری بار انہوں نے وزیراعلی کا عہدہ حاصل کیا۔ اس دوران دو مرتبہ بی ایس پی نے حکومت سازی کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا۔

اکاون سالہ مایاوتی غیر شادی شدہ ہیں اور ان کے مداح ان کو’بہن جی‘ کہہ کر پکار تے ہیں۔ان کے مخالفین انہیں شاطر سیاسی رہنما تصور کرتے ہیں۔ سیاسی دنیا میں یہ بات عام ہے کہ وہ اپنی سیاسی کامیابی کے لیے کوئی بھی حربہ کا استعمال کر سکتی ہیں۔

ماضی میں مایاوتی نے بحیثیت وزیراعلیٰ کوئی قابل ذکر کام نہيں کیا ہے لیکن انہوں نے شمالی اور وسطی ہندوستان میں پسماندہ طبقات میں بیداری پیدا کر انہیں ان کی سیاسی طاقت کا احساس دلایا ہے۔ آج وہ ہندوستان میں دلت برادی کی سب سے بڑی رہنما ہیں۔

مایاوتی کا سیاسی سفر بھی متنازعہ رہا ہے ان کے خلاف بدعنوانی کے کئی معاملات درج ہیں۔ ان مقدمات میں ناجائز طریقے سے بڑی دولت حاصل کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

لیکن ’تاج کاری ڈور‘ معاملہ میں مایاوتی کا نام سامنے آنے کے بعد ان کی حکومت پر خطرے کے بادل منڈرانے لگے۔ مایا وتی پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تاج محل کے نذدیک ایک بڑا شاپنگ کامپلکس تعمیر کرنے کی اجازت دی۔ ہالانکہ مایاوتی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اپنے سیاسی سفر کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی حربہ کے طور پر اعلیٰ ذاتوں کے خلاف اشتعال انگیز بات کرنے والی مایاوتی نے اسمبلی انتخابات میں پچیس فیصد سے زیادہ ٹکٹ اعلیٰ ذات کے امیدواروں کودیے۔ جبکہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں انہوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت بڑی تعداد میں مسلمانوں کو امیدوار بنایا تھا۔

مایاوتی کے سیاسی سفر پر نظر ڈالنے سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ اپنے حلقہ اثر کو بڑھانے اور اقتدار کے حصول کے لیے انہیں اپنے سیاسی نظریات بدلنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد