بی ایس پی کو واضح اکثریت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست اترپردیش کے اسمبلی کے انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی ہے اور پارٹی نے سنیچر کو نومنتخب ارکان کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس میں پارٹی کی رہنماء مایا وتی کو باضابطہ طور پر لیڈر منتخب کیا جائےگا اور وہ چوتھی بار ریاستی حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں گی۔ پارٹی کی شاندار جیت کے بعد مایاوتی نے ایک پریس میں کہا کہ یہ نتیجے دراصل ان کے نظریات کی فتح ہیں۔’میں اس کے لیے عوام کی شکرگزار ہوں اور یقین دلاتی ہوں کہ پارٹی اپنے وعدوں کے مطابق انصاف پسند، جرائم سے آزاد اور ترقی پسند انتظامیہ فراہم کرےگی۔‘ ادھر وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے اپنے عہدے سے استعفی دیدیا ہے۔ لکھنؤ میں گورنر سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن کی جانبداری کے سبب وہ ہار گئے ہیں۔’ شکست کی پہلی وجہ الیکشن کمیشن ہے اور دوسری یہ کہ ہم اپنے ترقیاتی کاموں کو عوام تک نہیں پہنچا سکے۔‘ سنہ انیس سو اکانوے کے بعد پہلی بار ریاست میں کسی ایک جماعت کو چار سو تین ارکان کی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ لکھنؤ میں مایاوتی کی رہائش گاہ پر جشن کا ماحول ہے جہاں کامیابی کا جشن منانے کے لیے بی ایس پی کے کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہوئی ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ اور حکمراں کانگریس پارٹی نے مایاوتی کو مبارکباد کہی ہے۔ ان انتخابات میں کانگریس پارٹی کی کارکردگی کافی مایوس کن رہی ہے۔ راہل گاندھی نے یوپی میں زبردست انتخابی مہم چلائی تھی جس سے کافی امیدیں وابستہ تھیں لیکن اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا اور اس کی نشستیں پہلے سے کم ہوگئی ہیں۔ کانگریسی رہنما اور مرکزی وزیر کپل سبلنے کہا: ’ہمارا مقصد بی جے پی کی ہوا نکالنا اور بی ایس پی کو پنچر کرنا تھا جس میں ہم کامیاب ہوئے ہیں، ان کے خلاف ہمای مہم کا فائدہ مایا وتی کو پہنچا ہے۔‘ کانگریس کے رہنما سلمان خورشید کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی نے پارٹی کو مضبوط کیا ہے اور وہ اس کام میں آئندہ بھی لگے رہیں گے تاکہ کانگریس پارٹی اور مضبوط ہوسکے۔ بقول ان کے راہل کی مہم سے کانگریس پارٹی کو فائدہ ہوا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ایجنڈے کو عوام کے سامنے تاخیر سے پیش کیا اس لیے وہ پیچھے رہ گئی ہے۔ پارٹی کی رہنما ششما سوراج نے کہا کہ نتائج یہ بتاتے ہیں کہ عوام ملائم سنگھ کی حکومت سے چھٹکارہ چاہتے تھے :’ بی جے پی خود کو پروجیکٹ کرنے میں پیچھے رہی اور متبادل کے طور پر بہوجن سماج پارٹی ابھر کو سامنے آئي۔‘ ان انتخابات میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے کئی امیدوار بھی ہار گئے ہیں۔ کنڈا سے رگھوپرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا جبکہ مئو سے مختار انصاری ہار گئے ہیں۔ ہارنے والی فہرست میں ملائم سنگھ کی کابینہ کے کئی وزیر بھی شامل ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر کیسری ناتھ ترپاٹھی انتخاب ہار گئے ہیں۔ بینی پرساد ورما بھی پیچھے چل رہے ہیں۔ تازہ رجحانات کے مطابق دوسرے نمبر پر ملائم سنگھ یادو کی جماعت بی ایس پی ہے جسے تقریبا سو نشستیں ملی ہیں۔ بی جے پی کو تقریبا پچاس اور کانگریس کو بیس نشستیں ملی ہیں۔ | اسی بارے میں اترپردیش: آخری مرحلے کی پولنگ08 May, 2007 | انڈیا یو پی: تیسرے مرحلے کیلیے پولنگ18 April, 2007 | انڈیا اترپردیش: پُرامن ووٹنگ جاری07 April, 2007 | انڈیا ’فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے‘18 February, 2007 | انڈیا ملائم نےاکثریت ثابت کر دی25 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||