BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 May, 2007, 07:05 GMT 12:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اترپردیش: آخری مرحلے کی پولنگ
اتر پردیش میں پولنگ
ریاست میں پہلی بار کل چار سو تین اسبلی حلقوں میں سات مرحلوں میں پولنگ ہو رہی ہے
ریاست اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے کے لیے منگل کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اس مرحلے میں نو اضلاع کے انسٹھ اسمبلی حلقوں کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔

ووٹنگ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ووٹنگ کے دوران ابھی تک صورت حال مجموعی طور پر پُرامن ہے لیکن ابتدائی مراحل میں پولنگ کی رفتار سست رہی ہے۔

اس مرحلے کی پولنگ میں مشرقی اترپردیش کے فیض آباد، امبیڈکر نگر، گورکھ پور، مہاراج گنج، کوشی نگر، دےوریا، مؤو، اعظم گڑھ اور بلیا اضلاع میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔

الیکشن کمیشن نے پرامن انتخابات کرانے کے لیے سینٹرل ریزرو پولیس فورسز کی چھ سو پچاس کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ انتخابات میں کسی بھی قسم کی گڑبڑ پر قابو پانے کے لیے نو میں سے پانچ اضلاع میں خصوصی مبصر بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

انسٹھ نشستوں کے لیے نو سو چوتیس امیدوار میدان میں ہیں جن میں ایک سو باسٹھ کے خلاف جرائم کے مقدمات درج ہیں۔

 ریاست میں پہلی بار کل چار سو تین اسبلی حلقوں میں سات مرحلوں میں پولنگ ہو رہی ہے۔ ان نشستوں پر کل چھ ہزار چھیاسی امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ آزاد امیدوار ہیں۔ ساتوں مرحلوں کے ووٹوں کی گنتی گیارہ مئی کو ہوگی۔

اننچاس خواتین بھی انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔ اہم امیدواروں میں ریاستی وزیر امبیکا چودھری، رام گوند، شاردانندن انچل اور سیتا رام نشاد شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مافیا ڈان مختار احمد انصاری، امرمنی ترپاٹھی اور جرائم کی دنیا سے سیاست میں آنے والے وزیر ہری شنکر تیواری بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ ان امیدواروں کے حلقے میں سکیورٹی کے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔

کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی، حکمراں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی انتخابی میدان میں ہیں۔ اصل مقابلہ بہوجن سماج پارٹی، بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان ہے۔ ریاست میں کانگریس چوتھی اہم جماعت ہے۔

چھ مرحلوں پر محیط ’ایگزٹ پولز‘ کے مطابق کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت ملنے کی توقع کم ہے۔ اس صورت میں حکومت کی تشکیل میں چھوٹی جماعتوں کی اہمیت بڑھ جائے گی۔

ریاست میں پہلی بار کل چار سو تین اسمبلی حلقوں میں سات مرحلوں میں پولنگ ہو رہی ہے۔ ان نشستوں پر کل چھ ہزار چھیاسی امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ آزاد امیدوار ہیں۔ ساتوں مرحلوں کے ووٹوں کی گنتی گیارہ مئی کو ہوگی۔

سونیارائے بریلی انتخاب
سونیا کی پھر رائے بریلی سے جیتنے کی توقع ہے
بہار کے مسئلےالیکشن کے مسئلے
بہار اسمبلی انتخابات مسائل کا شکار
بھارتی مسلمانمسلم ووٹ کس کا
انتخابات میں مسلمان ووٹرز کہاں کھڑے ہیں
من موہن سنگھحکومت کیا کرے؟
بھارت کی نئی حکومت کو نئے چیلنجوں کا سامنا
انتخابی جلسہمہنگے انتخابی وعدے
مہاراشٹر، مہنگے انتخابی وعدے کیا کریں گے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد