BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک:یکطرفہ ویزا پالیسی کااعلان
اجلاس میں امن کے لیے دہشت گردی سے نمٹنے پر ضرور دیا گیا
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت یک طرفہ طور پر رکن ممالک کے طلباء، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، مریضوں اور صحافیوں کے لیے آزادانہ ویزا پالیسی کااعلان کرتا ہے۔

منموہن سنگھ جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک ترقیاتی پروگرامز کے اعلانات کے بجائے ان پر عمل کریں۔ بقول ان کے اب رکن ممالک اس پوزیشن میں ہیں کہ سارک کے چارٹرکو نافذ کر سکیں۔

من موہن سنگھ نے کہا کہ جنوبی ایشیا فی الوقت ایسے اقتصادی اور سیاسی تبدیلیوں سےگزر رہا ہے کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی: ’سیاسی تبدیلی تکلیف دہ ہوتی ہے کیونکہ ہم میں سےسب ہی کو اپنے ملک اور حکومتوں کے دائرے اختیار میں رہ کر کام کرنا ہوتا ہے‘۔

پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے تقریبا ایک ارب لوگوں کی امیدیں خطے کے قائدین سے وابستہ ہیں۔’ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول تیار کریں جو پر امن ہو، ترقی اور خوشحالی کا ضامن، بھوک اور بیماریوں سے آزاد ایک ایسی زندگی کا عکاس ہو جہاں لوگوں کی امیدیں پروان چڑھیں۔‘

پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ سارک ممالک نے کچھ حاصل کیا ہے اور بہت کچھ باقی ہے لیکن اس میں کئی طرح کے چيلنجز کا سامنا ہے۔

ان کہنا تھا کہ ’اس موقع کو کھونا نہیں چاہیے۔ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کریں اور چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ اب بحث مباحثے سے آگے نکل کر ٹھوس اقدامات کرنے کا وقت ہے۔‘

News image
 یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول تیار کریں جو پر امن ہو، ترقی اور خوشحالی کا ضامن، بھوک اور بیماریوں سے آزاد ایک ایسی زندگی کا عکاس ہو جہاں لوگوں کی امیدیں پروان چڑھیں
وزیراعظم شوکت عزیز

شوکت عزیز نے کہا کہ مقاصد کے حصول کے لیے ہمیں اپنی سوچ اور سلوک میں زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سارک تنظیم میں افغانستان کی شمولیت پر افغان کے صدر حامد کرزئی کو مبارک باد دی اور کہا انہیں امید ہے کہ افغانستان اس تنظیم میں اہم رول ادا کرے گا۔ افغانستان اس تنظیم میں شامل ہونے والا آٹھواں ملک ہے، منگل کو باضابطہ طور پر تنظیم میں اسے شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا : ’میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم اپنی دارالحکومتوں کو براہ راست فضائی سروسز سے مربوط کرلیں‘۔ اس موقع پر انہوں نے پڑوسی ممالک کو بھارتی بازار میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل کرنے کا بھی موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنے خطاب میں افغانستان کی تنظیم میں شمولیت پر رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا اس سے ان کے ملک کی اقتصادی و سیاسی علیحدگی ختم ہوجائےگی اور اس کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔

حامد کرزئی کا کہنا تھاکہ’ ہم ترقی اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب شدت پسندی پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے بغیر ترقی کو بر قرار رکھنا مشکل ہوگا۔‘

بنگلہ دیش، سری لنکا مالدیپ، بھوٹان اور نیپال کے سربراہان نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور سب ہی نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و خوشحالی کی بحالی کے لیے دہشت گردی سے نمٹنا ضروری ہے۔

کچھ بھی رکھ لو
سارک تاریخوں پر بھارت کو کوئی اعتراض نہیں
 نئی دلی میں سارک رکن ممالک کی پروگرامنگ کمیٹی کا اجلاس ’سارک یونیورسٹی‘
رکن ممالک کے طلباء کیلیے اعلیٰ تعلیم کا موقع
شوکت عزیز شوکت عزیز کادورہ
ہند-پاک اقتصادی تعلقات کی بہتری کی توقع
آمدو رفت بڑھ گئی
پاک انڈیا امن اقدام سے عوامی روابط میں فروغ
نشیب و فراز کا سال
2006 میں پاک بھارت تعلقات پر ایک نظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد