سارک:یکطرفہ ویزا پالیسی کااعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت یک طرفہ طور پر رکن ممالک کے طلباء، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، مریضوں اور صحافیوں کے لیے آزادانہ ویزا پالیسی کااعلان کرتا ہے۔ منموہن سنگھ جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک ترقیاتی پروگرامز کے اعلانات کے بجائے ان پر عمل کریں۔ بقول ان کے اب رکن ممالک اس پوزیشن میں ہیں کہ سارک کے چارٹرکو نافذ کر سکیں۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ جنوبی ایشیا فی الوقت ایسے اقتصادی اور سیاسی تبدیلیوں سےگزر رہا ہے کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی: ’سیاسی تبدیلی تکلیف دہ ہوتی ہے کیونکہ ہم میں سےسب ہی کو اپنے ملک اور حکومتوں کے دائرے اختیار میں رہ کر کام کرنا ہوتا ہے‘۔ پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے تقریبا ایک ارب لوگوں کی امیدیں خطے کے قائدین سے وابستہ ہیں۔’ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول تیار کریں جو پر امن ہو، ترقی اور خوشحالی کا ضامن، بھوک اور بیماریوں سے آزاد ایک ایسی زندگی کا عکاس ہو جہاں لوگوں کی امیدیں پروان چڑھیں۔‘ پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ سارک ممالک نے کچھ حاصل کیا ہے اور بہت کچھ باقی ہے لیکن اس میں کئی طرح کے چيلنجز کا سامنا ہے۔ ان کہنا تھا کہ ’اس موقع کو کھونا نہیں چاہیے۔ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کریں اور چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ اب بحث مباحثے سے آگے نکل کر ٹھوس اقدامات کرنے کا وقت ہے۔‘
شوکت عزیز نے کہا کہ مقاصد کے حصول کے لیے ہمیں اپنی سوچ اور سلوک میں زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سارک تنظیم میں افغانستان کی شمولیت پر افغان کے صدر حامد کرزئی کو مبارک باد دی اور کہا انہیں امید ہے کہ افغانستان اس تنظیم میں اہم رول ادا کرے گا۔ افغانستان اس تنظیم میں شامل ہونے والا آٹھواں ملک ہے، منگل کو باضابطہ طور پر تنظیم میں اسے شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا : ’میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم اپنی دارالحکومتوں کو براہ راست فضائی سروسز سے مربوط کرلیں‘۔ اس موقع پر انہوں نے پڑوسی ممالک کو بھارتی بازار میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل کرنے کا بھی موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنے خطاب میں افغانستان کی تنظیم میں شمولیت پر رکن ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا اس سے ان کے ملک کی اقتصادی و سیاسی علیحدگی ختم ہوجائےگی اور اس کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ حامد کرزئی کا کہنا تھاکہ’ ہم ترقی اسی وقت حاصل کر سکتے ہیں جب شدت پسندی پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے بغیر ترقی کو بر قرار رکھنا مشکل ہوگا۔‘ بنگلہ دیش، سری لنکا مالدیپ، بھوٹان اور نیپال کے سربراہان نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور سب ہی نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و خوشحالی کی بحالی کے لیے دہشت گردی سے نمٹنا ضروری ہے۔ |
اسی بارے میں سارک ایجنڈے پر صلاح ومشورہ02 April, 2007 | انڈیا سارک ممالک کی مشترکہ یونیورسٹی31 March, 2007 | انڈیا ’سارک تاریخوں پر اعتراض نہیں‘24 April, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||