BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 April, 2007, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اولین ترجیح پاکستان سے تجارت‘

News image
رکن ممالک کے درمیان ویزے کی فراہمی میں نرمی سےعوامی سطح پر رابطوں میں اضافہ ہو گا
وزیر خارجہ پرنب مکھرجی

ہندوستان کے وزیرِخارجہ پرنب مکھرجی نے منگل کو ہونے والے سارک سربراہی اجلاس کے دوران رکن ممالک کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

دلی میں ہونے والی چودھویں سارک سربراہ کانفرنس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سارک کے اجلاس کے دوران اولین ترجیح پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط کو بہتر بنانا ہوگی۔

انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ’پورپی یونین‘ اور ’آسیان‘ جیسی علاقائی تنظیموں کے مقابلے میں ’سارک‘ کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی تعاون بہت کم ہے اور رکن ممالک کے مابین تجارت کی شرح پانچ فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جبکہ گزشتہ دس بارہ سال کے دوران سارک ممالک کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے ایسے حالات ميں تجارتی تعاون میں اضافے کا امکان بڑھ گیا ہے چنانچہ اسی ضمن میں اقدمات اٹھائے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سارک کے اجلاس کے دوران رکن ممالک کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے سامان اور خدمات کی نقل و حمل کے عمل کو وسعت دینے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

مسٹر مکھرجی نے رکن ممالک کے درمیان اشتراک اور تعلقات کو وسعت دینے پر زرودیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رکن ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے کی پوری کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں سڑک اور ریل سمیت تمام بحری، بری اور فضائی راستوں کی بحالی شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ رکن ممالک کے درمیان ویزا کی فراہمی میں نرمی کرکے خوشگوار حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سےعوامی سطح پر رابطوں میں اضافہ ہو گا۔

دریں اثناء ایرانی حکومت نے باضابطہ طور پر سارک ممالک سےدرخواست کی تھی کہ اسے ’مبصر‘ کا درجہ دیا جائے جس پر تمام رکن کے خارجہ سیکرٹریوں نے مشترکہ طور پر وزارتِ خارجہ کی کونسل میں اسے منظور کرنے کی تجویز رکھی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال سارک کے رکن ممالک ہیں۔

کچھ بھی رکھ لو
سارک تاریخوں پر بھارت کو کوئی اعتراض نہیں
’سارک یونیورسٹی‘
رکن ممالک کے طلباء کیلیے اعلیٰ تعلیم کا موقع
واچپئی جمالیاعلانِ اسلام آباد
مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات
اسی بارے میں
سارک: ایجنڈا سفارشات مرتب
01 January, 2004 | پاکستان
سارک: اعلان اسلام آباد
06 January, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد