’اولین ترجیح پاکستان سے تجارت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیرِخارجہ پرنب مکھرجی نے منگل کو ہونے والے سارک سربراہی اجلاس کے دوران رکن ممالک کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ دلی میں ہونے والی چودھویں سارک سربراہ کانفرنس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سارک کے اجلاس کے دوران اولین ترجیح پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط کو بہتر بنانا ہوگی۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ’پورپی یونین‘ اور ’آسیان‘ جیسی علاقائی تنظیموں کے مقابلے میں ’سارک‘ کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی تعاون بہت کم ہے اور رکن ممالک کے مابین تجارت کی شرح پانچ فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جبکہ گزشتہ دس بارہ سال کے دوران سارک ممالک کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے ایسے حالات ميں تجارتی تعاون میں اضافے کا امکان بڑھ گیا ہے چنانچہ اسی ضمن میں اقدمات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سارک کے اجلاس کے دوران رکن ممالک کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے سامان اور خدمات کی نقل و حمل کے عمل کو وسعت دینے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔ مسٹر مکھرجی نے رکن ممالک کے درمیان اشتراک اور تعلقات کو وسعت دینے پر زرودیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رکن ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے کی پوری کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں سڑک اور ریل سمیت تمام بحری، بری اور فضائی راستوں کی بحالی شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رکن ممالک کے درمیان ویزا کی فراہمی میں نرمی کرکے خوشگوار حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سےعوامی سطح پر رابطوں میں اضافہ ہو گا۔ دریں اثناء ایرانی حکومت نے باضابطہ طور پر سارک ممالک سےدرخواست کی تھی کہ اسے ’مبصر‘ کا درجہ دیا جائے جس پر تمام رکن کے خارجہ سیکرٹریوں نے مشترکہ طور پر وزارتِ خارجہ کی کونسل میں اسے منظور کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال سارک کے رکن ممالک ہیں۔ |
اسی بارے میں ’سارک تاریخوں پر اعتراض نہیں‘24 April, 2005 | انڈیا نئی دہلی میں ملاقات پر اتفاق21 July, 2004 | پاکستان سارک سربراہ کانفرنس التوا شہ سرخیوں میں03 February, 2005 | پاکستان سارک اجلاس جلد بلانے کامطالبہ 09 February, 2005 | پاکستان سارک ممالک کی مشترکہ یونیورسٹی31 March, 2007 | انڈیا سارک: ایجنڈا سفارشات مرتب01 January, 2004 | پاکستان سارک: اعلان اسلام آباد06 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||