BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2004, 19:39 GMT 00:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک: ایجنڈا سفارشات مرتب

سارک
دو ہزار ایک کے سارک سربراہ اجلاس کی تصویر

سارک ممالک کے خارجہ سیکریٹریوں پر مشتمل قائمہ کمیٹی نے پانچ نکات ایجنڈے کے متعلق سفارشات مرتب کرلی ہیں جو جمعہ کے روز شروع ہونے والے سارک وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس میں منظوری کیلیے پیش کی جائیں گی۔

سارک کی قائمہ کمیٹی کے نو منتخب چیئرمین ریاض کھوکھر نے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خوشگوار ماحول میں ہونے والے اجلاس میں غربت کے خاتمے کیلئے ’’جنوبی ایشیا کی کمیٹی برائے تخفیف غربت‘‘ کی رپورٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے رکن ممالک قومی پروگرام برائے تخفیف غربت شروع کریں گے۔ سارک تنظیم کا اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں سے رابطہ بڑھایا جائے گا۔

ریاض کھوکھر نے بتایا کہ اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے گا خاص طور پر ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی سرمایہ کاری کے تحفظ ۔ انفراسٹرکچر میں تعاون کیا جائے گا ۔ سارک وزراء خزانہ ’جنوبی ایشیائی بنک‘ کے قیام کا جائزہ لیں گے۔

آزادانہ تجارت کے متعلق معاہدے سافٹا کے متعلق بھی قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ اور مشاورت ہورہی ہے اور یہ معاملہ وزارء خارجہ کی کونسل میں پیش کیا جائے گا ۔ سوشل چارٹر کا ذکر کرتے ہوئے کھوکھر نے بتایا کہ اس کا متن بھی منظوری کیلئے وزراء کونسل میں پیش کرنےپر اتفاق ہوا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی سمگلنگ روکنے اور بچوں کی فلاح کیلئے مختلف تجاویز پر اتفاق ہوا ہے۔

پانچویں نکتے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سارک کا دہشت گردی کے متعلق کنوینشن جو 1987 میں منظور ہوا تھا اس میں ایک اضافی پروٹوکول کے متعلق ڈرافٹ بھی وزار خارجہ کونسل میں پیش کیا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دہشت گردی کی تشریح پر اتفاق ہوگیا ہے تو کھوکھر نے کہا کہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ میں یہ معاملہ بھی زیر بحث رہا اور کوئی متفقہ تشریح نہیں کی گئی۔

اس ضمن میں متعدد سوالات کا جواب یہ کہہ کر انہوں نے ٹال دیا کہ وہ یہ تفصیلات فی الحال نہیں بتا سکتے کہ کس ملک کو کس نقطے پر کیا اختلاف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضع ہے اور وہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور کمیٹی نے متن کو وزراء کونسل میں پیش کرنےپر اتفاق کیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ مہمان سربراہان کا خیر مقدم کرنے کیلئے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کو مقرر کیا گیا اب انہیں تبدیل کرکے شوکت عزیز کو مقرر کیا گیا ہے۔ کیا یہ بھارت کے مطالبے پر ہوا ہے؟

سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ انہیں زیادہ علم تو نہیں البتہ پاکستان چونکہ میزبان ملک ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس لئے شیخ رشید کی جگہ شوکت عزیز کو مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضع کیا کہ یہ فیصلہ کسی کی ڈکٹیشن اور مطالبے پر نہیں کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں ریاض کھوکھر نے بتایا کہ بھارت کے علاوہ تمام دیگر مہمان ممالک کے سربراہان نے صدر مملکت جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم جمالی سے دو طرفہ ملاقاتوں کے لئے درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی آداب کے مطابق ایسے مواقع پر میزبان ملک کے سربراہ سے مہمان ملک کا سربراہ ملاقات کی درخواست کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میزبان ملک ہے اور ملاقات کےلئے بھیک نہیں مانگ رہا اور نہ ہی اصرار یا درخواست کررہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد