کسان تنظیموں کی احتجاجی ریلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مختلف ریاستوں کی کسان تنظیموں نے اراضی سے بے دخلی اور کسانوں کے مسائل کے حوالے سے دارالحکومت دلی میں ایک طویل احتجاجی ریلی نکالی ہے۔ کسانوں نےایکشن دو ہزار سات کے نام سے ایک تحریک بھی شروع کی ہے جس میں ملک کی تقریباً سبھی ریاستوں کی کسان تنظیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ملک کی تقریبا دو سو غیر سرکاری تنظیموں کا بھی مطالبہ ہے کہ حکومت کسانوں کے مسائل پر توجہ دے اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کسانوں کی زمین پر زبردستی قبضہ نہ کرے۔ بھارتیہ کسان یونین کے ایک لیڈر یودھ ویر سنگھ کا کہنا ہے کہ خصوصی اقتصادی زون کے نام پر زبردستی کسانوں کی زمین لینا ظلم ہے جسے کسان برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا ’ہم یہاں نندی گرام کے کسانوں کے ساتھ ہمدردی کے لیے جمع ہوئے ہیں اور حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر اس نے کسانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تو پھریہ کسان اس حکومت کو بھی اکھاڑ پھینکیں گے‘۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے بیرونی ممالک سے اناج مہنگے داموں پر درآمد کرتی ہے جس سے کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ پنجاب کسان یونین کے رہنما اجمیر سنگھ لکھو والا کہتے ہیں’حکومت آسٹریلیا اور امریکہ سے گیہوں گیارہ روپے فی کلو خریدتی ہے اور ہم سے سات روپے میں، آخر ملک کے کسانوں کو ان کی محنت کی قیمت کیوں نہیں ملتی ہے؟ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری زمین ملٹی نیشنل کمنیوں کے لیے نہیں ہے۔‘ مجموعی طور پر ہندوستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے لیکن زرعی شعبہ تنزلی کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی پچاس فیصد سے زیادہ پیداوار زراعت پر منحصر ہے اور اگر اس میں میں کمی آتی رہی تو حالات ابتر ہو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ماؤ نوازوں کی اپیل، چار ریاستیں بند20 March, 2007 | انڈیا نندی گرام: کولکاتہ میں مظاہرے19 March, 2007 | انڈیا نندی گرام: سو سے زائد لاپتہ، گرفتاریاں18 March, 2007 | انڈیا نندی گرام میں زمین نہیں لیں گے17 March, 2007 | انڈیا نندی گرام: ہڑتال سے زندگی مفلوج 16 March, 2007 | انڈیا نندی گرام: ہلاک شدگان میں اضافہ15 March, 2007 | انڈیا کسانوں پر فائرنگ، متعدد ہلاک14 March, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||