کوہ پیما مل گئے، پائلٹ کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں سوار تین یورپی کوہ پیما سنیچر کو بحفاظت واپس آ گئے ہیں لیکن ان کا ہیلی کاپٹر برباد ہوگیا ہے۔ کشمیر کے پہاڑی علاقوں کے درمیان لاپتہ ہونے والے کوہ پیما ہفتے کی صبح واپس آئے ہیں۔ ریاست میں فوجی ترجمان کرنل اے کے ماتھر نے بتایا ہے کہ فضائیہ کے ہیلی کاپٹر ان کوہ پیماؤں کے بچانے کے لیے گئے تھے۔ کوہ پیما سلون سوڈان نے بی بی سی کو بتایا کہ پائیلٹ ہیلی کاپٹر کو اس وقت اتارنا چاہتے تھے جب وہ بیالیس سو میٹر اونچائی پر اڑ رہے تھے لیکن سورج کی روشنی سے ان کی آنکھیں اتنی چندھیا ہوگئیں کہ وہ اترنے کی جگہ نہیں دیکھ سکے اور زمین پر بہت تیزی سے آگرے۔ اس درمیان ہیلی کاپٹر پوری طرح برباد ہوگیا لیکن ہیلی کاپٹر میں سوار تینوں کوہ پیما اور پائلٹ بچ گئے۔ حالانکہ مسٹر سوڈان کا کہنا ہے کہ پائیلٹ محفوظ ہیں لیکن وہ کہیں پہاڑوں میں پھنس گئے ہیں اور وہ ان کو ڈھوندنے کے لئے جارہے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر سرینگر اور سونمرگ کے پہاڑی علاقوں کے درمیان لاپتہ ہوا تھا۔ سونمرگ کا علاقہ سرینگر کے شمال مشرق میں چھیاسی کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ فرانسیسی کوہ پیما سلون سڈن کو’امپاسبل سکیئر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سڈن دنیا کی مشکل اور دشوارگزار ترین برفانی ڈھلوانوں پر اسکیئنگ کر چکے ہیں۔ وہ ان چند کو پیماؤں میں سے ہیں جنہوں نے K5 نامی چوٹی بھی سر کی ہے۔ یہ چوٹی ’ہڈن پیک‘ کے نام سے جانی جاتی ہے اور یہ پاکستان میں واقع تیسری بلند ترین چوٹی ہے۔ | اسی بارے میں یورپی کوہ پیماؤں کا ہیلی کاپٹر لاپتہ17 March, 2007 | انڈیا کشمیر میں سیاحوں کی واپسی31 May, 2005 | انڈیا ’کشمیر: سیر جاری رکھیں گے‘27 May, 2006 | انڈیا ہمالیہ پرچین بھارت کی مشترکہ مہم21 December, 2006 | انڈیا لداخ میں سیاحوں کیلیےضابطے19 July, 2006 | انڈیا سرینگر: پانچ دھماکے،آٹھ ہلاک11 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||