BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 13:58 GMT 18:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہ پیما مل گئے، پائلٹ کی تلاش

 کشمیر
کشمیر میں سیاحوں اور کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد آتی ہے
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں سوار تین یورپی کوہ پیما سنیچر کو بحفاظت واپس آ گئے ہیں لیکن ان کا ہیلی کاپٹر برباد ہوگیا ہے۔

کشمیر کے پہاڑی علاقوں کے درمیان لاپتہ ہونے والے کوہ پیما ہفتے کی صبح واپس آئے ہیں۔ ریاست میں فوجی ترجمان کرنل اے کے ماتھر نے بتایا ہے کہ فضائیہ کے ہیلی کاپٹر ان کوہ پیماؤں کے بچانے کے لیے گئے تھے۔

کوہ پیما سلون سوڈان نے بی بی سی کو بتایا کہ پائیلٹ ہیلی کاپٹر کو اس وقت اتارنا چاہتے تھے جب وہ بیالیس سو میٹر اونچائی پر اڑ رہے تھے لیکن سورج کی روشنی سے ان کی آنکھیں اتنی چندھیا ہوگئیں کہ وہ اترنے کی جگہ نہیں دیکھ سکے اور زمین پر بہت تیزی سے آگرے۔

اس درمیان ہیلی کاپٹر پوری طرح برباد ہوگیا لیکن ہیلی کاپٹر میں سوار تینوں کوہ پیما اور پائلٹ بچ گئے۔ حالانکہ مسٹر سوڈان کا کہنا ہے کہ پائیلٹ محفوظ ہیں لیکن وہ کہیں پہاڑوں میں پھنس گئے ہیں اور وہ ان کو ڈھوندنے کے لئے جارہے ہیں۔

 پائیلٹ ہیلی کاپٹر کو اس وقت اتارنا چاہتے تھے جب وہ بیالیس سو میٹر اونچائی پر اڑ رہے تھے لیکن سورج کی روشنی سے ان کی آنکھیں اتنی چکاچوندھ ہوگئیں کہ وہ اترنے کی جگہ نہیں دیکھ سکے۔
سوڈان نے یہ بھی بتایا کہ ہیلی کوپٹر کے کریش ہونے کے بعد انہیں اسکیئنگ کرنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں زمین پر واپس آنے میں دس گھنٹے کا وقت لگا اور وہ پوری رات ٹھنڈ میں زمین پر آنے کا راستہ ڈھونڈتے رہے۔

حکام کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر سرینگر اور سونمرگ کے پہاڑی علاقوں کے درمیان لاپتہ ہوا تھا۔ سونمرگ کا علاقہ سرینگر کے شمال مشرق میں چھیاسی کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

فرانسیسی کوہ پیما سلون سڈن کو’امپاسبل سکیئر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سڈن دنیا کی مشکل اور دشوارگزار ترین برفانی ڈھلوانوں پر اسکیئنگ کر چکے ہیں۔

وہ ان چند کو پیماؤں میں سے ہیں جنہوں نے K5 نامی چوٹی بھی سر کی ہے۔ یہ چوٹی ’ہڈن پیک‘ کے نام سے جانی جاتی ہے اور یہ پاکستان میں واقع تیسری بلند ترین چوٹی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد