ہمالیہ پرچین بھارت کی مشترکہ مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور چین نےگلیشیئر پرعالمی حدت میں اضافے کےاثرات کا پتہ لگانے کے لیے سائنس دانوں کا ایک مشترکہ گروپ ہمالیہ کی پہاڑیوں پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وفد میں دونوں ملکوں کے کوہ پیما اور سائنس دان شامل ہوں گے جو ان علاقوں کا دورہ کرینگے جہاں سے دریائے ستلج اور برہم پتر نکلتے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کی زندگي کا انحصار ان دونوں دریاؤں کے پانی پر اور ماہرین کو اس بات پر تشویش لاحق ہے کہ برف کے پگھلنے سے انکا بہاؤ متاثر ہوسکتا ہے۔ ہندوستانی وفد کی قیادت بھارت کے کوہ پیما فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ایچ پی ایس اہلو والیہ کریں گے۔ انکا کہنا ہے کہ ان علاقوں کا ایسا سروے ایک صدی قبل کیا گیا تھا اور اب بدلتے ہوئے حالات میں اسکا سروے ضروری ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سےعلاقے میں آبی وسائل کو منظم کرنے میں آسانی ہوگي اور ماحولیات سے متعلق مستقبل کے چیلینجز کا سامنا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ | اسی بارے میں انٹرنیٹ کوہ ہمالیہ کے دامن میں01 November, 2003 | نیٹ سائنس ہمالیہ کے پگھلتےگلیشیئر 10 November, 2004 | نیٹ سائنس ہمالیہ کو بچانےکی اپیل10 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||