لداخ میں سیاحوں کیلیےضابطے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکام نےچینی سرحد کے ساتھ واقع اور دفاعی اعتبار سے نہایت اہم خطے لداخ میں غیرملکی سیاحوں کی سیرو تفریح سے متعلق کئی ضابطے نافذ کردیے ہیں۔ ممبئی بم حملوں سے ہندو پاک تعلقات میں پیدا کشیدگی کے بعد اُٹھائے گئے اس اقدام کو لداخ میں سیاحت کی صنعت کے لیئے ایک دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ آل لداخ ٹُورآپریٹرس ایسوسی ایشن کے صدر سپالبر گوبا کے مطابق ضابطوں کے از سرنو نفاذ سے خطے میں ٹورزم انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں لوگوں کا روزگار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سترہ سال قبل جب کشمیر میں گڑبڑ شروع ہوئی تو وہاں کی سیاحت ختم ہوگئی اور اسے’ ڈسٹربڈ ایریا‘ قرار دیا گیا مگر یہاں ایسا نہیں ہوا تھا۔ یہاں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر قانون میں نرمی کی گئی جو غیرملکی سیاح کشمیر نہ جا پاتے وہ یہاں آتے تھے۔ ان کی نقل و حرکت پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ یہاں تک کہ سات سال قبل ہوئی کارگل جنگ کے بعد بھی کسی قسم کی پابندیاں نہیں تھیں۔ ممبئی دھماکوں کے بعد پابندیوں میں شدّت آگئی ہے۔ اب ان ضابطوں کی کی وجہ سے اگر کوئی غیر ملکی سیاح ’پینگونگ‘ اور ’سوموریری‘ نامی جھیلوں کا نظارہ کرنا چاہے یا پھر دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن کے قریبی سیاحتی مرکز ’نوبرا ویلی‘ میں کوہ پیمائی کا ارادہ رکھتاہو تو اسے نہ صرف باقاعدہ رجسٹریشن کروانی ہوگی بلکہ وہ چینی سرحد کے ساتھ واقع ان خوبصورت مقامات پر اکیلا یا دو یا تین کے گروہ میں نہیں جا سکتا۔ اس کے لیئے کم ازکم چار سیاحوں کا گروپ ہونا لازمی ہے۔
تاہم لداخ کے مرکزی ضلع لیہ کے ڈپٹی کمشنر منوج ترویدی کہتے ہیں کہ خطے میں کوئی نئی پابندی نہیں ہے۔ مسٹر ترویدی نے بی بی سی کو بتایا ’یہ تو مرکزی حکومت کا قانون ہے جو بہت پہلے سے لاگو ہے۔ یہاں ایک طرف چین کا بارڈر ہے تو دوسری طرف پاکستان کا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے لداخ میں ہوٹل اینڈ گیسٹ ہاؤس فیڈریشن کے سربراہ جگمت وانگچک کا کہنا ہے کہ لداخ کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماچل پردیش میں بھی لاہول اور سپتی نامی مقامات پر انڈیا کی سرحدیں چین کے ساتھ ملتی ہیں لیکن وہاں تو کوئی پابندی نہیں۔ وہاں آئی ایل پی تو لاگو ہے لیکن غیر ملکی سیاحوں کو اکیلے سیر کی اجازت ملتی ہے۔ کشمیر ٹورزم الائنس کے سیکریٹری ناصر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ سترہ سال قبل کشمیر کو ’ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ‘ کے زمرے میں لایا گیا تو مغربی ممالک نے کشمیر کو اپنے شہریوں کے لیئے غیر محفوظ قرار دے کر کشمیر کی سیر کو ممنوع قرار دیا۔ وہ مزیر کہتے ہیں کہ سیاحت کی صنعت تو برباد ہوگئی۔ اب لداخ سے امید تھی کیونکہ یہاں غیرملکی سیاح آتے تھے لیکن ان پابندیوں سے ان کی آمد کا گراف بھی کافی حد تک نیچے گر سکتا ہے۔ پچھلے سال اٹھارہ ہزار غیر ملکیوں نے لداخ کی سیر کی تھی۔ اس سال پابندیوں کی وجہ سے سیاحوں کے بڑی تعداد میں یہاں آنے کی بہت کم امید ہے۔ اگر بہترین جگہوں پر جانے کی انہیں ان کی مرضی کےمطابق اجازت نہ ہو تو وہ کیوں آئیں گے۔ اکثر سیاح اکیلے یا جوڑوں کی صورت میں ہوتے ہیں۔ ان کے لیئے تو چار سیاحوں کی ٹیم اکٹھی کرنا ہی مسئلہ ہوتا ہے۔ اکژ ٹریول ایجنٹ یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ لداخ کو وسطی ایشیا کے ساتھ لنک کرنے کے سرکاری اعلانات اور کارگل اسکردو سڑک نیز ناتھولہ پاس پر آمدو رفت بحال کرنے کے سرکاری وعدے موجودہ پابندیوں سے پھیکے پڑ گئے ہیں۔ مسٹر ناصر نے اس تاثر کی یوں وضاحت کی کہ ’ کافی عرصے سے ہم سن رہے ہیں کہ ہمسایوں کے ساتھ تعلقات ٹھیک ہو گئے۔ پاکستان اور چین کے ساتھ دوستی ہے۔ تجارت بڑھے گی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جب اپنے ہی ملک کے اندرونی علاقوں میں گھومنے پھرنے کی اجازت نہ ہو تو راستے کھولنے سے کیا فائدہ‘۔ | اسی بارے میں ’کشمیر: سیر جاری رکھیں گے‘27 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||