’ٹیکس ادا کرنے والوں کو مایوسی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سال 08-2007 کے لیے پیش کیا گیا عام بجٹ انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کے لیے مایوسی کا سبب بنا ہے کیونکہ ٹیکس ادا کرنے والوں کے لیے ایک لاکھ روپے کی چھوٹ کی حد میں صرف دس ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب عام تاثریہ تھا کہ عام بجٹ میں 30 سے 50 ہزار روپے تک کی مزيد چھوٹ دی جائے گی لیکن وزیر خزانہ پی چدمبرم نے صرف دس ہزار روپے کا اضافہ کیا ہے۔ خواتین کے لیے یہ رقم ایک لاکھ پینیس ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپے اور سینئر شہیریوں کے لیے یہ رقم ایک لاکھ پچاسی ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ پچانوے ہزار کردی گئی ہے۔ کمپنیوں کے انکم ٹیکس پر لگنے والے ضمنی ٹیکس کو ہٹا لیا گیا ہے اور سروس ٹیکس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہيں۔ نئے بجٹ کے مطابق آٹھ لاکھ سے کم کے کاروبار پر سروس ٹیکس نہیں لگے گا۔ تعلیم کے لیے فنڈ جمع کرنے کی غرض سے ایک فیصد اضافی ضمنی ٹیکس لگایا گیا ہے۔ اس مد میں دو فیصد اضافی ٹیکس پہلے سے ہی نافذ ہے۔ | اسی بارے میں بھارتی بجٹ، زرعی شعبے پر توجہ28 February, 2007 | انڈیا ’کتّے بلّی کا کھانا سستا ہو گیا‘28 February, 2007 | انڈیا دفاعی اخراجات میں 17 فیصد اضافہ08 July, 2004 | انڈیا بھارت میں دفاعی بجٹ میں اضافہ28 February, 2005 | انڈیا انڈین بجٹ پرملا جلا ردعمل28 February, 2006 | انڈیا بھارت: ریل بجٹ کی تیاریاں؟ 25 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||