بےشناخت لاشوں کی اجتماعی تدفین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں گزشتہ ہفتے ہونےوالے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے تئیس بےشناخت لاشوں کو سنیچر کے روز ہریانے کے مہران گاؤں میں اجتماعی طور پر دفنا دیا گیا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہےکہ لاشوں کے ڈی این اے نمونے لے لیےگئے ہیں اور اگر ان نمونوں کی مدد سے مستقبل میں ان لاشوں کی شناخت ہو جاتی ہے تو انہیں ان کے رشتہ داروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اجتماعی تدفین کا بندوبست ہریانہ وقف بورڈ نے کیا۔ بورڈ کے سربراہ محمد شاہد کا کہنا تھا ’ہندوستان اور پاکستان کے حکومتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جن افراد کی شناخت نہیں ہوئی ہے انہیں ہریانہ میں ہی دفن کر دیا جائے‘ ۔ تدفین کے وقت ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہوڈا اور دیگر ریاستی اہلکار بھی موجود تھے تاہم پاکستانی ہائی کمیشن سے کوئی اہلکار موقع پر موجود نہیں تھا۔ مسٹر ہوڈا سے جب یہ پوچھا گیا کہ بم دھماکوں کے ذمہ دار افراد کا پتہ لگایا گیا ہے یا نہیں تو ان کا کہنا تھا ’تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کو اس معاملے میں اہم سراغ ملے ہیں لیکن اس وقت ان کا ذکر کرنا مناسب نہیں ہے‘۔
ہلاک ہونے والے افراد کو اسلامی طریقے سے دفنایا گیا تاہم وہاں موجود بعض تنظیموں نے تابوتوں میں رکھی لاشوں کے پاس کھڑے ہوکر ہندو روایت کے مطابق شلوک بھی پڑھے۔ دفن کی جانے والی لاشوں کو باقاعدہ لکڑی کے تابوتوں میں رکھا گیا تھا۔شناخت نہ ہونے کی وجہ سے لاشوں کو نمبر دیےگئے اور ہر ایک قبر کے اوپر ہلاک ہونے والے شخص کا نمبر لکھا گیا ہے۔ لاشوں کو پولیتھین بیگ میں رکھ کر دفنایا گيا ہے جبکہ قبروں کو مٹی سے ڈھکنے کے بجائے ان پر پہلے لکڑی کے تختے رکھے گۓ تھے تاکہ شناخت ہونے کے بعد لاش نکالی جا سکے۔ آج جن افراد کی اجتماعی طور پر تدفین کی گئی ہے ان کی شناخت نہ ہونے کے سبب یہ تو پتہ نہیں چل سکا کہ ان کا تعلق ہندوستان سے تھا یہ پاکستان سے۔آخری رسومات کے موقع پر ہریانہ کے مہران گاؤں کے افراد بڑی تعداد میں نمازِ جنازہ کے لیے موجود تھے۔
ہریانہ میں جمعت العلماء ہند تنظیم کے ممبر مولانا غیور احمد کا کہنا ہے ’ہریانہ کی باشندوں نے ٹرین دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی پوری مدد کی اور آج جس بڑی تعداد میں لوگ یہاں جنازے کی نماز کے لیے موجود ہیں اس سے یہ بات صاف ہوتی ہے کہ انسانیت سب سے بڑی چیز ہے نہ کہ یہ کہ آپ کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں‘۔ تدفین کے وقت گاؤں کے ہندو اور مسلم عوام بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے اور بقول گاؤں والوں کے دہشتگرد سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں جیسے واقعات سرانجام دے کر دونوں ملکوں میں پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں لیکن ’اس واقعہ کے بعد دونوں ملکوں کے افراد مزید قریب آ گئے ہیں‘۔ گزشتہ اتوار کی شب دلی سے اٹاری کے راستے پاکستان جانے والی ٹرین میں ہریانہ کے شہر پانی پت کے ایک نزدیکی گاؤں دیوانہ میں بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دھماکوں کی وجہ سے ٹرین کے دو ڈبے بری طرح جل گئے تھے اور ہلاک ہونے والوں کی شناخت میں کافی دقت پیش آئی۔ |
اسی بارے میں بےشناخت لاشیں، اجتماعی تدفین 23 February, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||