BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بےشناخت لاشیں، اجتماعی تدفین
سمجھوتہ ایکسپریس
سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں اور آتشزدگی سے 68 افراد ہلاک ہوئے
ہندوستان کی ریاست ہریانہ میں حکام سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ان لاشوں کو اجتماعی طور پر دفنانے کےانتظامات کر رہے ہیں جن کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

پانی پت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر راجیو رنجن کو وزارت خارجہ کی جانب سے احکامات موصول ہوئے ہیں کہ ہلاک ہونے والے جن افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے انہیں اجتماعی طور پر سنیچر چوبیس فروری کو دوپہر دو بجے پانی پت میں دفنا دیا جائے۔

مسٹر رنجن نے پانی پت میں صحافیوں کوبتایا ’ کسی شخص کے مرنے کے بعد لاش کو صرف 72 گھنٹوں تک ہی رکھا جا سکتا ہے لیکن وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے احکامات کے سبب انہیں 72 گھنٹوں سے زيادہ وقت تک رکھا گیا لیکن ان لاشوں کو اس سے زيادہ وقت تک محفوظ رکھنا ممکن نہیں ہوگا، اسی لیے انہیں اجتماعی طور پر دفنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

پانی پت کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کیپٹن شکتی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعہ کی دوپہر تک ایسی 24 لاشیں موجود ہیں جن کی شناخت نہیں کی جا سکی ہے اور اگر ہفتے کی صبح تک ان کے رشتے دار شناخت کرنے نہیں آتے ہیں تو انہیں اجتماعی طور پر دفن کر دیا جائے گا۔

حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان میں موجود رشتے داروں سے اجازت لینے کے بعد چھ لاشوں کو قریبی گاؤں مہرانہ میں دفنانے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔

 جمعہ کی دوپہر تک ایسی 24 لاشیں موجود ہیں جن کی شناخت نہیں کی جا سکی ہے اور اگر ہفتے کی صبح تک ان کے رشتے دار شناخت کرنے نہیں آتے ہیں تو انہیں اجتماعی طور پر دفن کر دیا جائے گا۔
کیپٹن شکتی سنگھ

دھماکوں کے سبب ہلاک ہونے والوں کو پانی پت کے سول اسپتال میں رکھا گیا تھا جبکہ 13 زخمیوں کو دلی کے صفدر جنگ ہسپتال بھیج دیا گیا تھا جن ميں سے ایک شخص کی موت ہو گئی تھی۔

اتوار کی نصف رات دلی سے اٹاری کے راستے پاکستان جانے والی ٹرین میں ہریانہ کے شہر پانی پت کے ایک نزدیکی گاؤں دیوانہ میں بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دھماکوں کی وجہ سے ٹرین کے دو ڈبے بری طرح جل گئے تھے جس کے سبب ہلاک ہونے والوں کی شناخت کرنے میں کافی دقت پیش آ رہی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر پاکستانی تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد