پنجاب: ووٹنگ کی شرح پچاس فیصد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی ریاست پنجاب میں منگل کواسمبلی کے لیے ووٹنگ کے دوران صورت حال مجموعی طور پر پُرامن رہی۔ بی بی سی کے نامہ نگار اسیت جولی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ووٹنگ کی شرح تقریبًا پچاس فیصد رہی۔ اکالی دل کے رہنما پرکاش سنگھ بادل کے اسمبلی حلقے لمبی میں اکالی دل اور کانگریس کے کارکنوں کے درمیان معمولی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ کورٹ کپورا کے حلقے میں بھی معمولی چھڑپیں ہوئی ہیں۔ دیہی علاقوں میں ووٹنگ کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ امرتسر لوک سبھا میں واقع مجیٹھا حلقے کے ایک پولنگ بوتھ پر ریاست کے وزیر برائے خزانہ اور امرتسر سے لوک سبھا کے امیدوار سوریندر سنگھ سے ایک پولنگ افسر کے ساتھ بدتمیزی کے لیے جواب طلبی کی گئی ہے۔ اس سے قبل بارش اور موسم کی خرابی کی وجہ سے ریاست میں ووٹنگ کی رفتار دھیمی رہی۔ ریاست کے کل ایک سو سترہ اسمبلی حلقوں میں سے ایک سو پندرہ سیٹوں کے لیے منگل کی صبح ووٹ ڈالے گئے اور کل 16509 پولنگ مراکز بنائے گئے تھے جن میں ایک چوتھائی حساس اور ایک ہزار چونتیس مراکز انتہائی حساس قرار دیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے آزادانہ اور شفاف الیکشن کرانے کے لیے پنجاب پولیس فورس کے علاوہ نیم فوجی دستوں کی تقریباً 200 کمپنیاں بھی تعینات کی تھیں۔ تقریبًا ایک کروڑ چھیاسٹھ لاکھ رائے دہندگان نے کل 1038 امیدواروں کی قسمت کے لیے ووٹ ڈالے۔ انتخاب میں بڑا مقابلہ کانگریس اور شرومنی اکالی دل کے متحدہ محاذ کے درمیان ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اکالی دل کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا۔ 49 خاتون امیدوار بھی ان انتخابات میں اپنی قسمت آزمائی ہے۔
کانگریس نے 115 ، شرومنی اکالی دل نے 92 اور اس کی معاون بھارتیہ جنتا پارٹی نے 23 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ اس کے علاوہ چھ سو چالیس آزاد امیدار بھی مقابلے میں شریک ہیں۔ ریاست پنجاب میں سکھ مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے اور یہاں کی سیاست پر سکھ مذہب کا خاصا اثر پایا جاتا ہے۔ اکالی دل کو سکھ مذہب سے ہمدردی رکھنے والی پارٹی بھی تصور کیا جا تا ہے۔ ان انتخابات میں جو معاملات سب سے اہم تھے ان میں کسانوں کے قرضے، مالوا علاقے ميں کسانوں کی خودکشی، خصوصی اقتصادی خطے کا قیام اور زمینوں کا ایکوی سیزن وغیرہ۔ اہم امیدواروں میں وزیر اعلٰی امریندر سنگھ (پٹیالہ حلقے سے) اور ان کے مخالف اور اکالی دل کے رہنما پرکاش سنگھ بادل (لمبی حلقے سے ) شامل ہیں۔ نائب وزیر اعلٰی راجندر کول بھٹل لہرا گھا گا اور تامل ناڈو کے گورنر سرجیت سنکھ برنالا کے بیٹے گگن جیت سنگ برنالا دھوری سے قسمت آزما رہے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کا کام ستائس فروری سے شروع ہوگا۔ اس وقت ریاست میں کانگریس پارٹی کی حکومت ہے۔ | اسی بارے میں الیکشن پر ہائی کورٹ کا فیصلہ20 June, 2006 | انڈیا ابو سالم الیکشن لڑیں گے23 October, 2006 | انڈیا بہار، جھارکھنڈ میں ضمنی انتخابات05 November, 2006 | انڈیا جے این یو کے انتخاب میں امریکی امیدوار05 November, 2006 | انڈیا بی جے پی اجلاس، کانگریس پرتنقید 22 December, 2006 | انڈیا اندرا گاندھی کی دوبارہ واپسی07 January, 2007 | انڈیا امیدواروں کومقدمات کا سامنا25 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||