BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 October, 2006, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابو سالم الیکشن لڑیں گے

 ابو سالم
ابو سالم کی انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے
ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید مافیا سرغنہ ابو سالم اتر پردیش نے الیکشن لڑنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ممبئی سے ہزارہا پوسٹرز مبارکپور پہنچ گئے ہیں جو ان کا حلقہ انتخاب ہو گا۔

ابوسالم اعظم گڑھ کے شہر سرائے میر میں پٹھان کولہ کے رہنے والے ہیں لیکن وہ مبارکپور سے الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ممبئی سے جو پوسٹرز مبارکپور پہنچے ہیں ان پر لکھا ہے: ’ ہم اہل ہند ہیں، سینے میں شیر کا دل ہے اگر ساتھ ملا آپ کا تو رخ طوفان کا موڑ سکتے ہیں۔‘

ابوسالم کے وکیل اشوک سروگی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ابو سالم کی انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے اور اب تک بیس ہزار پوسٹرز بھیجے گئے ہیں۔

اشوک سروگی کے مطابق یہ طے نہیں ہوا ہے کہ ابو سالم کس پارٹی سے الیکشن لڑیں گے کیونکہ کئی علاقائی پارٹیوں سے بات چیت جاری ہے۔ سروگی نے ان پارٹیوں کا نام بتانے سے انکار کر دیا لیکن یہ کہا کہ اگر ان سے بات چیت ناکام ہوتی ہے تو سالم آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں گے۔

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں لیکن ابو سالم نے وقت سے پہلے ہی تیاری کر لی اس پر ان کے وکیل سروگی کا کہنا تھا کہ الیکشن ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کو اخراجات کا تخمینہ دینا ہوتا ہے اس لیئے سالم نے پوسٹرز وغیرہ کے اخراجات سے بچنے کے لیئے وقت سے پہلے پوسٹرز بھیج دیئے ہیں۔

ابوسالم اس وقت ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں اور ان پر انیس سو ترانوے بم دھماکہ، اجیت دیوانی اور بلڈر پردیپ جین قتل کیس کے مقدمات چل رہے ہیں۔اس کے علاوہ ان پر حیدرآباد اوربھوپال میں فرضی پاسپورٹ کے فراڈ کا کیس بھی درج ہے۔

ابو سالم پر دہلی میں بھتہ وصولی کے تین کیس درج ہیں اور انہیں پرتگال سے ان تمام کیسز میں باقاعدہ مقدمہ چلانے کے لیئے انڈیا لایا گیا تھا۔

ملکی قانون
 انڈیا میں انڈرورلڈ مافیاؤں کا جیل میں رہ کر انتخاب لڑنا نئی بات نہیں ہے کیونکہ ملک کے قانون کے مطابق جب تک کسی ملزم کو عدالت مجرم قرار نہیں دیتی وہ بے گناہ تصور کیا جاتا ہے اس لئے انہیں الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

جب ان کے وکیل سے پوچھا گیا کہ اگر ابو سالم کو بم دھماکہ کیس میں سزا ہو گئی تو پھر کیا ہوگا تو ان کے وکیل سروگی کا کہنا تھا کہ اب اس مقدمہ کا فیصلہ آنے میں کافی وقت لگے گا کیونکہ عدالت نے ان کا مقدمہ دوسرے ملزمین سے الگ کر دیا ہے اور اس کی سماعت ابھی شروع بھی نہیں ہوئی۔

انڈیا میں انڈرورلڈ مافیاؤں کا جیل میں رہ کر انتخاب لڑنا نئی بات نہیں ہے کیونکہ ملک کے قانون کے مطابق جب تک کسی ملزم کو عدالت مجرم قرار نہیں دیتی وہ بے گناہ تصور کیا جاتا ہے اس لئے انہیں الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

ممبئی کے مضافات الہاس نگر سے پپو کلانی نے جیل میں رہ کر اسمبلی الیکشن لڑا اور کامیاب بھی ہوئے۔ ممبئی کے ہی مضافات کے وسئی علاقے میں بھائی ٹھاکر کا نام زمین مافیا کے طور پر لیا جاتا ہے اور انہوں نے بھی اسی طرح جیل میں رہ کر الیکشن لڑا۔ اس وقت بھی وہ جے جے ہسپتال فائرنگ معاملہ میں قید ہیں۔عدالت نے انہیں پھانسی کی سزا سنائی ہے جو صدر جمہوریہ کے پاس زیر غور ہے۔

ارون گاؤلی ممبئی کے مافیا سرغنہ کے طور پر جانے جاتے ہیں ان کی اپنی اکھل بھارتیہ سینا پارٹی ہے اور وہ آج ممبر اسمبلی ہیں۔ ان کے ساتھی سنیل گھاٹے نے جیل سے ممبئی میونسپل کارپوریشن کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ سنیل گھاٹے پر بھی بھتہ وصولی کے کیس درج ہیں اور اس وقت بھی وہ جیل میں ہیں۔

اتر پردیش سے مافیا سرغنہ ببلو شری واستو بھی ’اپنا دل‘ نامی پارٹی سے الیکشن لڑ چکے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔

اسی بارے میں
ابو سالم کون ہے
11 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد