الیکشن پر ہائی کورٹ کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش میں ریاستی ہائی کورٹ نے مقامی انتخابات کا اعلامیہ رد کرتے ہوئے سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل مچادی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ریاست میں ووٹروں کی فہرست کی تیاری میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اس لیۓ ان کی اصلاح کے بعد ہی نیا اعلامیہ جاری کیا جائے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی عدالت نے انتخابی عمل کو اس طرح سے روکا ہے ۔ یہ عدالتی حکم ایک ایسے وقت آیا ہے جب کہ ضلع پریشد اور منڈل پریشد کے مقامی انتخابات کا عمل کافی آگے بڑھ چکا تھا۔ ریاست میں ان دو اداروں کی سترہ ہزار سے زیادہ نشستوں کے لیئے ایک لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے نامزدگیاں داخل کی تھیں۔ ریاست کے بائیس اضلاع میں دو مرحلوں میں 28 جون اور 2 جولائی کو ووٹنگ ہونے والی تھی۔ ہائی کورٹ کے جج پی ایس نارائن نے اس درخواست پر یہ حکم جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ رائے دہندوں کی فہرست میں عہدیداروں نے کافی ہیرا پھیری کی ہے اور حزب اختلاف کے حامیوں کے نام فہرستوں سے نکال دیے گۓ ہیں۔ جج نے کہا کہ ریاستی الیکشن کمیشن نے مکمل طور پر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس عدالتی حکم پر ریاستی الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت دونوں نے یکساں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ کے سامنے اپیل کریں گے۔ وزیراعلی راج شیکھر ریڈی نے کہا کہ رائے دہندوں کی فہرست کا تنازعہ صرف 150 دیہاتوں تک محدود ہے جب کہ ریاست میں 60 ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے دیہات ہیں۔ جہاں برسراقتدار کانگریس پارٹی کو اس حکم سے دھکہ پہنچا ہے وہیں اپوزیشن پارٹیاں اِس سے بہت خوش ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما چندرا بابو نائیڈؤ نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی بجائے حکومت فیصلے کے خلاف اپیل کی بات کررہی ہے۔ تلگو دیشم، مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور بی جے پی نے صورتحال کے لیئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی سے اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہر پانچ برس میں ایک بار ہونے والے مقامی مجالس کے یہ انتخابات اب کی بار کہیں زیادہ متنازعہ اور دلچسپ ثابت ہورہے ہیں۔ حکمران کانگریس پارٹی ہر قیمت پر دیہی علاقوں کے ان اہم منتخبہ اداروں پر قبضے کی کوشش کررہی ہے جن پر اب تک تلگو دیشم کا کنٹرول تھا۔ تمام ہی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی برتری کے لیۓ ہر ممکن حربہ استعمال کررہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ان انتخابات پر بھی بڑی جماعتیں کئی سو کروڑ روپے خرچ کرنے کے لیۓ تیار ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے اپنے علاقوں کے با اثر افراد بھی ان اداروں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور اس کے لیۓ تمام راستے اختیار کیے جارہے ہیں۔ بعض مقامات پرایسے مضحکہ خیز واقعات بھی ہوئے ہیں کہ اگر کسی حلقے کو خواتین کےلیۓ محفوظ کردیا گیا ہے تو اس نشست کے امیدوار مرد لیڈر نے فوراً ہی شادی رچالی تاکہ وہ نشست اس کی بیوی کو مل جائے۔ اسی طرح کئی دیہاتوں میں منڈل پریشد کی نشستوں کی نیلامی کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ یہ نیلامی متعلقہ گاؤں کی ترقیاتی کمیٹی نے کی۔ اس کا کہنا تھا کہ سیٹ اسی امیدوار کو ملے گی جو سب سے زیادہ پیسہ دے گا تاکہ اسے گاؤں کی ترقی کے لیۓ استعمال کیا جاسکے۔ چنانچہ نظام آباد ضلع کے امشاپور گاؤں میں منڈل پریشد کی نشست ایک لاکھ اسی ہزار روپے میں ہراج کی گئی۔ اسی طرح گنٹور، پرکاشم اور کریم نگر ضلعوں میں بھی نشستیں نیلام کی گئیں- لیکن ریاستی الیکشن کمیشن نے اس نیلامی کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور اس طرح کے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم جاری کیا۔ چنانچہ نظام آباد میں نیلامی کے سلسلہ میں ترقیاتی کمیٹی کے صدر اور آٹھ دوسرے افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ | اسی بارے میں آندھرا پردیش: نکسلی کتنے موثر؟20 June, 2006 | انڈیا آندھرا میں ’نو ماؤ نواز ہلاک‘28 April, 2006 | انڈیا مسلمانوں کے لیے قانون غیر آئینی07 November, 2005 | انڈیا آندھرا پردیش: تشدد کا خطرہ09 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||