تیسرے دن بھی کشیدگی برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر گورکھپور میں تیسرے دن بھی کشیدگی برقرار ہے اور شہر کے بعض علاقوں میں بدستور کرفیو کا سلسلہ جاری ہے۔ گورکھپور کے پڑوسی شہر بستی اور مہاراج گنج میں حفاظتی اتنظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ شہر میں ہندو مسلم فسادات کے بعد سنیچر کے دن سے کرفیو نافذ ہے۔ محرم کی دسویں تاریخ کو کشیدگی کے سبب محرم کا روایتی جلوس نہیں نکالا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی علما ء سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ صرف ’علامتی جلوس‘ نکالا جائے گا۔ آج بعض علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے لاپرواہی کے الزام میں ضلع مجسٹریٹ، ایس ایس پی اور کئی پولیس افسروں کو معطل کر دیا ہے۔ تشدد پر قابو پانے کے لیے گورکھپور میں اضافی نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رکن پارلیمان یوگی آدیتہ ناتھ کی گرفتاری کے بعد پیر کی صبح تشدد بھڑک اٹھا تھا اور مظاہرین نے ریاستی ٹرانسپورٹ کی ایک بس میں آگ لگادی تھی اور ایک ٹرین میں بھی آگ لگانےکی کوشش کی۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران تشدد کے سبب شہر کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گيا اور مظاہرین کو منتشر کر نے کے لیے پولیس نے طاقت کا بھی استعمال کیا۔اس سے قبل جمعہ کو محرم کے جلوس کے دوران بھی تشدد ہوا تھا۔ مسٹر ناتھ کو اتوار کی رات اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کشیدگی والے علاقے میں جانے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں ان کے ایک سو پچاس حامیوں کے ساتھ جیل بھیج دیا گيا۔ شہر میں کشیدگی کے سبب ضلعی انتظامیہ نے تیس جنوری تک سکولوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ شہر میں تجارتی سرگرمیاں بھی پوری طرح بند ہیں۔ | اسی بارے میں تشدد کے بعد گورکھپورمیں کرفیو 29 January, 2007 | انڈیا کرناٹک: فرقہ وارانہ فسادات، کرفیو02 December, 2006 | انڈیا آسام میں تشدد کے بعد کرفیو نافذ07 November, 2004 | انڈیا گورکھپور، جبل پور میں کرفیو27 January, 2007 | انڈیا ہولی فسادات، 2 شہروں میں کرفیو27 March, 2005 | انڈیا کسانوں کا احتجاج، کرفیو26 October, 2006 | انڈیا دھار میں کرفیو اٹھا لیا گیا 03 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||