دھار میں کرفیو اٹھا لیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کے پیشِ نظر لگایا جانے والا کرفیو چند گھنٹوں بعد اٹھا لیا گیا ہے۔ ریاست کے ایک سینئر وزیر کیلاش وجہ ورگی کا کہنا ہے کہ اگر ہم کرفیو نہ لگاتے تو ہجوم پر قابو پانا ناممکن ہو جاتا اور کرفیو کے بغیر مسلمانوں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمارت میں ہندو عقیدت مندوں کی جانب سے پوجا کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے ۔ اس سے قبل ڈسٹرک مجسٹریٹ رام کنکر گپتا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ماحول کو دیکھتے ہوئے دھار کے پورے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ دھار علاقے میں گزشتہ کئی روز سے ہندو اور مسلمان دونوں مذہبوں کے عقیدت مندوں کے درمیان ذبردست تناؤ ہے۔ دونوں فرقے یہاں کی صدیوں پرانی عمارت ’بھوج شالہ‘ کو اپنی اپنی عبادت گاہ مانتے ہیں۔ ہندو فرقہ کافی عرصے سے سال میں ایک بار یہاں بست پنجمی کے روز سرسوتی دیوی کی پوجا کرتا ہے جبکہ مسلمان جمعہ کی نماز ادا کرتے ہيں۔
اس برس بسنت پنچمی جمعہ کو ہونے کے سبب ہندو عقیدت مندوں نے ایک خصوصی پوجا کا اہتمام کیا اور انہوں نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس جمعہ کو مسلمان یہاں نماز ادا نہ کریں اور انہیں پورے دن پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس ماحول کے مدِ نظر انتظامیہ نے جمعہ کی صبح ہندو عقیدت مندوں کو پوجا کرنے کی اجازت دی تھی اور مسلمانوں کے لیے دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک نماز ادا کرنے کا وقت مقرر کیا تھا۔ اس انتظام کے بعد حکام نے دعوی کیا تھا کہ ہندوستان میں جمعہ کو ایک نئی تاریخ لکھی جائے گی جب ہندو اور مسلمان ایک ساتھ اپنی اپنی عبادت کريں گے۔ ریاست کے سینئر وزير کیلاش وجےورگی نے بی بی سی کو بتایا ’دھار مذہبی اختلافات کے لیے ایک مثال قائم کرے گا اور ملک میں ایک نئی تاریخ لکھی جائے گی جب بھوج شالہ میں ہندوؤں کی پوجا اور مسلمانوں کی نماز ایک ساتھ ہو سکے گی۔‘ حالات پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیئےگئے تھے۔ مدھیہ پریش کا یہ علاقہ دارالحکومت بھوپال سے تقریبا 300 کلومیٹر دور ہے۔ یہ علاقہ قدیمی عمارت ’ بھوج شالہ ‘ کی وجہ سے تنازعہ کا شکار ہے۔ اس عمارت کو ہندو اور مسلمان دونوں فرقے اپنی اپنی ملکیت مانتے ہیں۔ ہندوؤں کے مطابق بھوج شالہ کی تعمیر گیارویں صدی میں بادشاہ بھوج نے کی تھی۔ اپنے وقت میں یہ عمارت سنسکرت زبان کی ایک اعلی درجے کی یونیورسٹی کے طور پر جانی جاتی تھی۔
اس یونیورسٹی میں دیوی کی ایک مورتی بھی رکھی تھی جسے بعد میں برطانوی حکمراں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ہندوؤں کا مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد اس مورتی کو ہندوستان واپس لایا جائے اور اسے عمارت کے اندر رکھا جائے۔ دوسری جانب مسلمان کہتے ہیں کہ اس عمارت کے دروازے پر صوفی سنت کلیم الدین کا مزار واقع ہے اور سن 1930 میں علاقے کے بادشاہ نے اس میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت دے دی تھی۔ 1952 میں بسنت پنچمی کے موقع پر خصوصی پوجا کرنے کے اجازت دئیے جانے کے بعد دھار میں پہلی مرتبہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے تاہم 2003 میں یہ معاملہ اس وقت اور پیچیدہ ہو گیا جب حکومت نے منگل کے روز ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ صبح سے ہی بسنت پنچمی کی خصوصی پوجا میں حصہ لینے کے لیے بڑی تعداد میں ہندو عقیدت مند متنازعہ عمارت کے آس پاس جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ہندو عقیدت مند اس وقت کافی ناراض ہوگئے جب پولیس نے انہیں عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ پولیس ہندوعقیدت مندوں کو اس وقت عمارت میں داخل ہونے سے روک رہی تھی جب مسلمانوں کی نماز کا وقت قریب آ گیا تھا۔ مسلمانوں کے ایک نمائندے وقار صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مسلمان عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب تو ضرور ہوئے لیکن پہنچنے میں تاخیر ہو گئی تھی‘۔ پولیس نے سخت سکیورٹی انتظامات میں مسلمانوں کو عمارت کے اندر پہنچایا اور پھر ان کی واپسی کے وقت بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ | اسی بارے میں گجرات:11 افراد کو عمر قید14 December, 2005 | انڈیا مسلمانوں کو ختم کرنے کا حکم تھا‘ 14 April, 2005 | انڈیا گودھرا ریل گاڑی الزامات واپس؟20 June, 2005 | انڈیا فسادات: مودی پر پھر نکتہ چینی13 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||