افضل کی نظرثانی کی اپیل بھی مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا پانے والے محمد افضل گرو کی پھانسی پر نظر ثانی کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ افضل گرو کو پارلیمان پرحملے کی سازش میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ چیف جسٹس وائی کے سبھروال کی قیادت میں سپریم کورٹ کی چار رکنی بینچ نے کہا ہے کہ نظر ثانی کی درخواست میں کوئی وزن نہیں ہے۔ افضل گرو اور ان کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں یہ کہہ کر اپیل دائر کی تھی کہ انہیں منصفانہ سماعت کا موقع نہیں ملا تھا اس لیے ان کے کیس پر دوبارہ غور کیا جائے۔ اس اپیل کے خارج ہونے کے ساتھ ہی افضل گرو کے پاس پھانسی سے بچنے کے لیے تمام قانونی داؤ پیچ ختم ہوگیے ہیں۔ افضل گرو کے اہل خانہ نےصدر عبدالکلام سے افضل کی جان بخشی کی اپیل کر رکھی ہے اور اب ان کی موت اور زندگی کا فیصلہ صدر جمہوریہ کے ہاتھ میں ہے۔ سپریم کورٹ نے اسی معاملے کے ایک دوسرے مجرم شوکت حسین گرو کی وہ اپیل بھی خارج کردی ہے جس میں ان کی دس برس کی سزائے قید پر نظر ثانی کی درخواست کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے افضل کوگزستہ برس اگست میں سزائے موت سنائی تھی اور انہیں بیس اکتوبر دو ہزار چھ میں پھانسی دی جانی تھی۔ لیکن رحم کی اپیل پر فیصلہ نہ ہونے کے سبب اسےموخر کردیا گیا تھا۔ محمد افضل اس وقت تہاڑ جیل کی جیل نمبر تین کے مخصوص وارڈ میں ہیں جو سزائے موت پانے والے قیدیوں کے لیے مخصوص ہے۔ کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتیں اور ملک کے دانشور افضل کی موت کی سزا کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیوسینا جیسی ہندو نظریاتی تنظیموں نے افضل کو پھانسی دینے کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں تہاڑ جیل میں پھانسی کی تیاریاں16 October, 2006 | انڈیا ’افضل خود رحم کی اپیل کریں گے‘19 October, 2006 | انڈیا افضل کی پھانسی مؤخر 19 October, 2006 | انڈیا ’افضل کیلیئے رحم کی اپیل نہیں کی‘ 31 October, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||