ہماچل: تبدیلی مذہب بل منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کی کانگریس حکومت نے خاموشی سے تبدیلی مذہب کے خلاف ایک بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس سے قبل کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھي نے دیگر ریاستوں (مدھیہ پردیش، راجستھان ) میں عیسائی برادری کو اس قسم کے بل کو چیلنج کرنے کی یقین دہانی کراوئی تھی۔ ہماچل پردیش کی حکمران جماعت کانگریس پارٹی نے تبدیلی مذہب سے متعلق یہ بل گزشتہ برس انتیس دسمبرکو منظور کرلیا تھا۔ اب ریاست کے گورنر کے دستخط کے بعد یہ بل قانونی کی شکل اختیار کر لے گا تاہم دلت اور عیسائیوں کی بعض تنظیموں نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ آل انڈیا کرسچن کونسل کے صدر جان دیال کا کہنا ہے کہ جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے قیادت والی ریاستیں جیسے مدھیہ پردیش، گجرات، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں تبدیلی مذہب سے متعلق بل پاس کیے گئے تھے تو کانگریس نے بی جے پی کو یہ کہا تھا کہ بی جے پی عوام سے اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق چھین رہی ہے۔ مسٹر دیال نے اس بل کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ انڈین جسٹس پارٹی کے صدر ادت راج نے بل کو خاموشی کے ساتھ پاس کے جانے پر حیرت ظاہر کی ہے۔ مسٹر راج کا کہنا ہے کہ جس خفیہ ڈھنگ سے اس بل کو ریاستی اسمبلی نے منظور کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے پر کانگریس اور سخت گیر ہندوجماعت بی جے پی میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اس بل کو واپس نہیں لیا گیا تو بل کی مخالفت میں ملک گیر سطح پرمہم شروع کی جائے گی۔ ہماچل میں مقامی صحافی اشونی شرما کا کہنا ہے کہ ریاست میں عیسائی دبی زبان میں اس بل کی مخالف کر رہے ہیں۔ عیسائیوں کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ قانون کی شکل اختیار کرنے کے بعد انہیں فلاحی کاموں میں دقت پیش آ سکتی ہے۔ | اسی بارے میں مدھیہ پردیش: تبدیلیِ مذہب قانون26 July, 2006 | انڈیا تبدیلی مذہب کے قانون پر تنازعہ07 October, 2006 | انڈیا ہماچل کو تبتی سیلاب کا خطرہ 12 August, 2004 | انڈیا ہماچل میں سیلاب کا خطرہ برقرار 27 June, 2005 | انڈیا پل ٹوٹ گیا،33 ہلاکتوں کا خدشہ09 September, 2005 | انڈیا کمیونسٹ ریاستوں میں ہڑتال14 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||