ہماچل میں سیلاب کا خطرہ برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں دریائے ستلج کے پانی کی سطح گھٹنی شروع ہو گئی ہے لیکن سیلاب کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ دریا میں یکایک پانی میں اضافے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اتوار کے روز دریائے ستلج کے پانی میں اچانک اضافے کے سبب دریا کے کنارے آباد ہزاروں باشندوں کو سیلاب کے خطرے کے مد نظر وہاں سے منتقل کر دیا گیا تھا۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دریا کے پانی میں اضافے کی ایک وجہ تبت کی پاریچوجھیل میں آیا سیلاب ہو سکتی ہے۔ لیکن انکا کہنا ہے کہ اس اصل وجہ کا اس وقت پتہ چل سکے گا جب مرکزی حکومت مصنوعی سیارے کے ذریعے اس علاقے کی لی گئی تصویر جاری کرے گی۔ کنور ضلع کے ایک سینئر اہلکار سومت کھیمتا نے بتایا ہے کہ 200 کلومیٹر کے علاقے میں ریڈ الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے اور آرمی اور پیرا ملٹری افواج کو چوکس کر دیا گیا ہے۔ مسٹر کھیمتا نے بتایا کہ دریا ستلج پر بنے ہوئے نو پل پانی میں بہہ گئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دریائے ستلج پر بنا ہندوستان کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ناتھپا پاور پروجیکٹ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ برس اگست میں چین نے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ تبت کی جھیل میں زمین کے کٹاؤ اور چٹانیں گرنے سے کسی بھی وقت شگاف پڑ سکتا ہے جس کے سبب بڑی مقدار میں پانی باہر نکلنے کا خطرہ ہے۔ لیکن سردی کے موسم میں جھیل کا پانی جمنے کے بعد وہ خطرہ ٹل گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق دریا میں اچانک پانی میں اضافے کا ایک سبب زبردست گرمی کی وجہ سے آس پاس کے برفیلی چٹانوں سے برف کا پگھلنا بھی ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||