BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 October, 2006, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تبدیلی مذہب کے قانون پر تنازعہ

یہ بل قانون بننے سے قبل ہی تنازعہ کا موضوع بنا ہوا ہے
ہندوستان کی بعض جین اور بدھ تنظیمیں گجرات کے ایک مجوزہ قانور کی مخالفت کررہی ہے جس میں جین اور بدھ مذاہب کو ہندو مذہب کا حصہ بتایا گیا ہے۔ تبدیل مذہب سے متعلق اس قانون کی عیسائی تنظیمیں بھی مخالفت کر رہی ہے۔

تبدیل مذہب سے متعلق قانون کے اس مسودے کو حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود گجرات اسمبلی منظور کر چکی ہے لیکن ابھی اسے قانون کی شکل لینے کے لیئے گورنر کی منظوری ملنی باقی ہے۔

سرکاری طور پر اس مجوزہ قانون کا مقصد زور زبردستی اور پیسے کے لالچ دے کر تبدیلی مذہب کو روکنا ہے لیکن اقلیتی طبقے کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ یہ بنیادی طور پر ہندؤں اور قبائلی آبادی کے عیسائی اور اسلام مذہب اختیار کرنے کے عمل کو مزیدہ پیچیدہ کرنا ہے۔

یہ بل قانون بننے سے قبل ہی تنازعہ کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس بل میں جین اور بدھ مذہب کو ہندو مذہب کا حصہ بتایاگیا ہے۔

آل انڈیا کانفرنس آف شیڈیول کاسٹ اینڈ شیڈول ٹرائیب اور آل انڈیا کرسچن کونسل نے اس ماہ کی چودہ اور پندرہ تاریخ کو ناگپور میں اس مجوزہ قانون کے خلاف ایک بڑی احتجاج ریلی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بدھسٹ رہنما ادت راج نے بتایا کہ ’گجرات حکومت کا یہ مجوزہ قانون انسان کی آزادی پر سیدھا حملہ ہے۔ ہندوستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی ریاستی حکومت آئین میں کوئی بھی حکومت دخل اندازی نہ کرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی مذہب حکومت کے کاموں میں روکاؤٹ بن سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے ملک کا سیکیولر آئین خطرے میں ہے‘۔

ڈاکٹر ادت راج کا کہنا تھا کہ اس قانون کی مخالفت میں چودہ اور پندرہ اکتوبر کو ناگ پور میں دنیا بھر سے بڑے بڑے دانشور ، مذہبی رہنما شرکت کريں گے۔ اسی دن اس بل کی مخالفت میں ہزاروں دلت احتجاج کے طور پر ہندو مذہب چھوڑ کر بدھ مذہب اپنائیں گے۔ ادت راج کے مطابق ’قانون دلتوں کے خلاف ہے، عیسائیوں کے خلاف ہے اور آزادی کے خلاف ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ یہ قانون اس لیئے بنایا گیا ہے تاکہ لوگ اپنے پسند سے اپنا مذہب تبدیل نہ کر سکیں۔

سونیا کی درخواست
 گزشتہ ہفتے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے بھی صدر سے ایک خط کے ذریعے یہ گزارش کی تھی کہ اس قانون کو منسوخ کر دیا جائے۔

اس موقع پر آل انڈيا کرسچن کاؤنسل کے سکریٹری مدھ چندرا کا کہنا تھا اگر اس قانون پر عمل کیا جاتا ہے تو لوگوں کو اپنی پسند کا مذہب اپنانے کی آزادی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانو کی مخالفت میں انہیں ایک بڑی تعداد میں حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’ملک کا سکیولر طبقہ ان کے ساتھ ہے کیوں کہ یہ قانون ہر ہندوستانی باشندے کے لیے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے‘۔

اس قانون کے خلاف جین مذہب کے ماننے والے بھی احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور بعض رہنماؤں نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہزتال بھی شروع کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے ورنہ ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ ڈاکٹر ادت راج اور کئی عیسائی رہنماؤں نے وزير اعظم منموہن سنگھ اور صدر عبد الکلام کو ایک خط لکھ کر یہ درخواست کی ہے کہ وہ جلد سے جلد حکومت کو اس قانون میں ترمیم کرنےکے لیئے ہدایات جاری کریں۔

گزشتہ ہفتے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے بھی صدر سے ایک خط کے ذریعے یہ گزارش کی تھی کہ اس قانون کو منسوخ کر دیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد