BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 December, 2006, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمیونسٹ ریاستوں میں ہڑتال

ٹیکسی
مغربی بنگال میں کولکتہ سمیت دیگر شہروں میں ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر ہوا ہے
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال اور کیرالہ میں بائیں بازوں کی حمایت یافتہ مزدور یونینوں کی ہڑتال کےسبب عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔

ریاست مغربی بنگال میں کولکتہ کے علاوہ دیگر شہروں میں ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

جنوبی ریاست کیرالہ کے اقتصادی دارالحکومت کوچی میں بھی ہڑتال سے تمام دکانیں اور تجارتی ادارے بند ہیں ۔

بائیں بازوں یونینوں نے یہ ہڑتال مرکزی حکومت کی مبینہ عوام مخالف اقتصادی اور مزدور پالیسی کے خلاف کیا ہے ۔

مغربی بنگال میں ٹرینیں بند ہیں۔ کولکاتہ ہوائی اڈے سے صبح چھ بجے سے صرف تین جہاز ہی آ جا سکیں ہیں اور اس کے علاوہ سبھی پروازیں منسوخ کر دی گئیں یا ان کے اوقات بدل دیےگۓ ہیں۔

 بائیں بازوں یونینوں نے یہ ہڑتال مرکزی حکومت کی مبینہ عوام مخالف اقتصادی اور مزدور پالیسی کے خلاف کیا ہے

اطلاعات کے مطابق ہڑتال کے باوجود ضروی خدمات کے مراکز معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔

انفورمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر اور کال سنٹر کے مراکزجو زیادہ طر کولکتہ شہر کے سالٹ لیک علاقے میں واقع ہیں اور وہاں بھی کام معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ یہاں پر کام کرنے والے ملازمین ہڑتال شروع ہونے سے قبل صبح کمپنی کی گاڑی سے پہنچ چکے تھے یا رات کو وہیں رک گئے تھے۔ تاہم شہر میں سوفٹ وئیر کے ترقیاتی مراکز بند ہیں ۔

حال میں انفورمیشن سیکڑ میں مزدور یونین کی تشکیل کی وجہ سے مایوس انفورمیشن سیکٹر کی کمپنیوں کو مثبت پیغام دینے کی غرض سے بنگال مزدور یونین کے سربراہ شیامل چکرورتی نے کہا ’میں نے اپنے اس وعدے کو پورا کیا ہے کہ ہم انفورمیشن ٹیکنالوجی کے مراکز کو ہڑتال سے مبرا رکھیں گے۔ ہمارے کارکن نے زبردستی کسی کو ہڑتال میں شامل نہیں کیا ہے‘۔

بینک اور دوسرے سرکاری اور غیر سرکاری سیکڑ کے تجارتی مراکز بند رہے۔

حکام کا کہنا ہے ’بنگال کے چائے باغ میں بھی کام متاثر ہوا ہے‘۔

کیرالہ کے شہر کوچی میں تمام قومی بینک بند ہیں اور کچھ نجی بینک کم ملازموں کے ساتھ کھلے ہوئے ہیں ۔ کوچی بندرگاہ بھی اس ہڑتال سے متاثر ہوئی ہے۔

ریاست کے سب سے بڑے انفورمیشن مرا کز انفورمیشن پارک کوچی اور ٹیکنو پارک تروندرم میں ہڑتال کا کوئي اثر نہیں ہوا ۔

ہڑتال کے دوران کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی خبر نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد